کوٹ لکھپت جیل میں قید پی ٹی آئی رہنماؤں کا خط، ووٹر کی عمر 25 سال کرنے کی تجویز پر تنقید
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
کوٹ لکھپت جیل میں قید پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کا ایک اور خط سامنے آیا جس میں انہوں نے ووٹر کی عمر کی حد 25 سال کرنے کی تجویز کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اسیران کوٹ لکھپت شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد، محمود الرشید ، اعجاز چودھری اور عمر سرفراز چیمہ نے ووٹر کی عمر کی حد پچیس سال کرنے کی تجویز پر تنقید کی۔
پی ٹی آئی رہنماؤں نے مشترکہ ختم میں لکھا کہ اسی نوعیت کا جاہلانہ اقدام بی اے کی ڈگری کی پابندی تھا جو بعد میں واپس لینا پڑا۔
مزید پڑھیںپی ٹی آئی رہنما اعجاز احمد چوہدری کا کوٹ لکھپت جیل سے خط
شاہ محمود قریشی، یاسمین راشد سمیت پی ٹی آئی کے سینئر رہنماؤں کا جیل سے خط
مشترکہ خط میں پی ٹی آئی رہنما نے اعتراض اٹھایا کہ جب شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور شادی کی عمر اٹھارہ سال ہے تو ووٹ ڈالنے کی عمر پچیس سال کرنے کا کیا جواز بنتا ہے؟۔
خط میں سوال کیا گیا کہ کیا یہ کسی خوف کی علامت ہے؟ کیا نوجوانوں نسل کے شعور پر عدم اعتماد کیا جا رہا یے۔
خط کے متن میں لکھا گیا کہ نوجوان نسل کی فہم و فراست، اجتماعی دانش اور قوت فیصلہ تو سرمایہ ہے، ہم ملک کی سیاسی جماعتوں بالخصوص پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن سے توقع رکھتے ہیں وہ اس رجعت پسندی کے رحجان کا ساتھ نہیں دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کوٹ لکھپت پی ٹی ا ئی سال کرنے کی عمر
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔