گل پلازہ آتشزدگی، بیسمنٹ میں کاروبار کرنے والی ماں، بیٹی نے آنکھوں دیکھا حال بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
کراچی:
گل پلازہ کی بیسمنٹ میں کاروبار کرنے والی ماں اور بیٹی نے خوف ناک آگ لگنے کے بدترین واقعے کا آنکھوں دیکھا حال بتا دیا جنہوں نے 20 منٹ میں اپنی 20 سال کی جمع پونجی اپنی آنکھوں کے سامنے شعلوں کی نذر ہوتے دیکھی۔
ایکسپریس نیوز کو گل پلازہ کی بیسمنٹ میں گارمنٹس کا کاروبار کرنے والی یاسمین اور ان کی بیٹی عائشہ نے بتایا کہ ہماری 20 سال کی جمع پونجی 20 منٹ میں جلتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے، گل پلازہ 10 سے 12 منٹ میں 80 فیصد سے زائد شعلوں کی لپٹ میں تھا جو سمجھ سے بالاتر ہے۔
یاسمین نے بتایا کہ وہ رات سوا نو بجے گھر سے دکان آئی تھیں جبکہ بیٹے کسٹمرز کو دیکھ رہے تھے سب کچھ اپنے معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ اچانک گل پلازہ میں بھڑکنے والی خوفناک آگ میں اپنی 20 سال کی جمع پونجی 20 منٹ میں جلتے ہوئے دیکھی ہے ہر جانب بھگڈر مچی ہوئی تھی جبکہ آگ کے شعلے اور دھواں ہی دھواں پھیلا ہوا تھا۔
عائشہ نے بتایا کہ گل پلازہ کی بیسمنٹ میں ان کی گارمنٹس کی دکان تھی جس میں سوا سے ڈیڑھ کروڑ مالیت کا مال موجود تھا جو جل کر خاکستر ہوگیا۔
انہوں نے بتایا کہ بیسمنٹ کی دکان کرایے کی ہے جبکہ گل پلازہ کی اوپری منزل پر ان کی 3 دکانیں ہیں جنہیں ہم نے کرایے پر دی ہوئی ہیں لیکن اب تو سب تباہ و برباد ہوگیا اور ہم سڑک پر آگئے ہیں۔
عائشہ نے بتایا کہ وہ گل پلازہ میں والدہ کے ہمراہ موجود تھیں کہ بیسمنٹ میں دھواں آنے سے کھانسی ہو رہی تھی اس دوران بیسمنٹ میں قائم چھوٹے آفس سے اعلان ہوا کہ بیسمنٹ والے فوری طور پر اپنی دکان بند کر کے باہر نکلیں اوپر آگ لگی ہوئی ہے جس پر وہ اپنی والدہ اور کام کرنے والوں کے ہمراہ جیسے ہی باہر آئے تو ہر جانب آگ کے شعلے دیکھے تو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں اور ہر جانب بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔
عائشہ نے انتہائی افسردہ لہجے میں بتایا کہ گل پلازہ میں جو صورت حال تھی وہ ایسی تھی کہ جیسے آپ دنیا میں قیامت دیکھ رہے ہیں، باہر آکر ایک نظر اٹھا کر گل پلازہ کو دیکھا تو ہر جانب آگ کے شعلے بلند ہوتے ہوئے دکھائی دیے، انتہائی بری صورت حال تھی۔
انہوں نے کہا کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آگ لگنے کے 10 سے 12 منٹ میں گل پلازہ 80 فیصد سے زائد آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں تھا، باہر نکل کر جہاں ہماری گاڑی پارک تھی وہاں تک پہنچ کر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔
عائشہ کے مطابق باہر نکلنے کے بعد انہوں نے پہلے اپنے اسٹاف کو ان کے گھروں تک پہنچایا جس کے بعد میں اور والدہ دوبارہ گل پلازہ پہنچے جو آگ کے شعلوں اور دھویں کے بادلوں میں گھرا ہوا دکھائی دیا۔
انہوں نے بتایا کہ گارمنٹس کے کاروبار میں اپنی محنت سے آگے آئے ہیں، اس کاروبار کو میری والدہ نے 20 سال دیے اور میرے 20 سال بھی اس کاروبار میں شامل ہیں، تباہ و برباد ہونے والے کاروبار میں دو زندگیوں کے 40 سال لگے جس سے ہم نے اپنی آنکھوں سے جلتا ہوا دیکھا ہے۔
عائشہ نے بتایا کہ ہمارے کچھ رشتے دار بھی گل پلازہ کی اوپری منزلوں میں کام کرتے ہیں اور وہ محفوظ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عائشہ نے بتایا کہ گل پلازہ کی انہوں نے
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔