کراچی:

گل پلازہ کی بیسمنٹ میں کاروبار کرنے والی ماں اور بیٹی نے خوف ناک آگ لگنے کے بدترین واقعے کا آنکھوں دیکھا حال بتا دیا جنہوں نے 20 منٹ میں اپنی 20 سال کی جمع پونجی اپنی آنکھوں کے سامنے شعلوں کی نذر ہوتے دیکھی۔

ایکسپریس نیوز کو گل پلازہ کی بیسمنٹ میں گارمنٹس کا کاروبار کرنے والی یاسمین اور ان کی بیٹی عائشہ نے بتایا کہ ہماری 20 سال کی جمع پونجی 20 منٹ میں جلتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے، گل پلازہ 10 سے 12 منٹ میں 80 فیصد سے زائد شعلوں کی لپٹ میں تھا جو سمجھ سے بالاتر ہے۔

یاسمین نے بتایا کہ وہ رات سوا نو بجے گھر سے دکان آئی تھیں جبکہ بیٹے کسٹمرز کو دیکھ رہے تھے سب کچھ اپنے معمول کے مطابق چل رہا تھا کہ اچانک گل پلازہ میں بھڑکنے والی خوفناک آگ میں اپنی 20 سال کی جمع پونجی 20 منٹ میں جلتے ہوئے دیکھی ہے ہر جانب بھگڈر مچی ہوئی تھی جبکہ آگ کے شعلے اور دھواں ہی دھواں پھیلا ہوا تھا۔

عائشہ نے بتایا کہ گل پلازہ کی بیسمنٹ میں ان کی گارمنٹس کی دکان تھی جس میں سوا سے ڈیڑھ کروڑ مالیت کا مال موجود تھا جو جل کر خاکستر ہوگیا۔

انہوں نے بتایا کہ بیسمنٹ کی دکان کرایے کی ہے جبکہ گل پلازہ کی اوپری منزل پر ان کی 3 دکانیں ہیں جنہیں ہم نے کرایے پر دی ہوئی ہیں لیکن اب تو سب تباہ و برباد ہوگیا اور ہم سڑک پر آگئے ہیں۔

عائشہ نے بتایا کہ وہ گل پلازہ میں والدہ کے ہمراہ موجود تھیں کہ بیسمنٹ میں دھواں آنے سے کھانسی ہو رہی تھی اس دوران بیسمنٹ میں قائم چھوٹے آفس سے اعلان ہوا کہ بیسمنٹ والے فوری طور پر اپنی دکان بند کر کے باہر نکلیں اوپر آگ لگی ہوئی ہے جس پر وہ اپنی والدہ اور کام کرنے والوں کے ہمراہ جیسے ہی باہر آئے تو ہر جانب آگ کے شعلے دیکھے تو کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں اور ہر جانب بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔

عائشہ نے انتہائی افسردہ لہجے میں بتایا کہ گل پلازہ میں جو صورت حال تھی وہ ایسی تھی کہ جیسے آپ دنیا میں قیامت دیکھ رہے ہیں، باہر آکر ایک نظر اٹھا کر گل پلازہ کو دیکھا تو ہر جانب آگ کے شعلے بلند ہوتے ہوئے دکھائی دیے، انتہائی بری صورت حال تھی۔

انہوں نے کہا کہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آگ لگنے کے 10 سے 12 منٹ میں گل پلازہ 80 فیصد سے زائد آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں تھا، باہر نکل کر جہاں ہماری گاڑی پارک تھی وہاں تک پہنچ کر نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔

عائشہ کے مطابق باہر نکلنے کے بعد انہوں نے پہلے اپنے اسٹاف کو ان کے گھروں تک پہنچایا جس کے بعد میں اور والدہ دوبارہ گل پلازہ پہنچے جو آگ کے شعلوں اور دھویں کے بادلوں میں گھرا ہوا دکھائی دیا۔

انہوں نے بتایا کہ گارمنٹس کے کاروبار میں اپنی محنت سے آگے آئے ہیں، اس کاروبار کو میری والدہ نے 20 سال دیے اور میرے 20 سال بھی اس کاروبار میں شامل ہیں، تباہ و برباد ہونے والے کاروبار میں دو زندگیوں کے 40 سال لگے جس سے ہم نے اپنی آنکھوں سے جلتا ہوا دیکھا ہے۔

عائشہ نے بتایا کہ ہمارے کچھ رشتے دار بھی گل پلازہ کی اوپری منزلوں میں کام کرتے ہیں اور وہ محفوظ ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: عائشہ نے بتایا کہ گل پلازہ کی انہوں نے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی