data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک بار ایسا ہوا کہ ایسے شخص نے اس کو دعوت مبازرت دی جو نمدہ پہننے ہوئے تھا۔ پہلوان فوراً اس کے مقابلے میں آ گیا اور اپنی مضبوط کمان کندھے سے اتار کر اس پر تیروں کی بارش کر دی۔ لیکن اس کا ایک تیر بھی اس کے نمدے کو نہ کاٹ سکا جو اس نے اپنے جسم پر لپیٹ رکھا تھا۔ جب وہ اپنی کوششوں میں ناکام ہوگیا تو نمدہ پوش نے اپنی کمند پھینک کر نہایت آسانی سے اسے گرفتار کر لیا۔
گرفتار کرنے کے بعد نمدہ پوش اسے وہاں سے لے گیا اور اس کے ہاتھ پیر مضبوطی سے باندھ کر اپنے خیمے کے سامنے ڈال دیا۔ اردبیل کاشہ زور پہلوان شرمندگی اور تکلیف سے ساری رات روتا رہا۔ صبح کے وقت ایک غلام خیمے سے باہر نکلا تو اسے دیکھ کر بولا، کیا تو وہی نامی گرامی پہلوان ہے جو تیر مار کر لوہے کی چادر کو چیھد سکتا ہے؟ اور اگر تو وہی ہے تو پھر تیری یہ حالت کیسے ہوئی؟
پہلوان نے آہ سرد بھر کر کہا: یہ سب تقدیر کے کرشمے ہیں۔ جب میرا ستارہ بلندی پر تھا تو کوئی وار خالی نہ جاتا تھا۔ اب تقدیر بگڑی ہے تو کوئی ہنر کام نہ آیا۔
جبر و اختیار کا مسئلا ہمیشہ سے بحث کا موضوع رہا ہے۔ ایک گروہ انسان کو مجبور محض گردانتا ہے دوسرا مختار مطلق۔ لیکن درست بات ان دونوں کے درمیان کی ہے کہ نہ انسان نباتات و جمادات کی طرح مجبور محض ہے اور نہ اس طرح آزاد کہ اس کا ہر کام خاص اس کی مرضی اور منشا کے مطابق پاتا ہو۔ یہی اسلام کا راستہ ہے لیکن زرا اور گہرائی میں جائیں تو انسان کو جو اختیار حاصل ہے وہ اس کے کسی کمال یا ذاتی خوبی کی وجہ سے نہیں بلکہ خداوند عالم کا انعام ہے اور بلاشبہ اس کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ اسے ساقط نہ کیا جا سکے۔
اللہ پاک ہر وقت اس بات پر قادر ہے کہ جس شخص کی جو صلاحیت چاہے چھین لے۔ چنانچہ اپنے خالق کی قوتوں کے اس ادراک کے باعث بزرگان دین اپنے تمام اختیارات کی نفی کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کا قول فیصل ہے کہ ’میں نے اپنے رب کو اپنے ارادوں کے ٹوٹنے سے پہچانا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔