مختلف علاقوں میں حادثات واقعات میں 5افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات واقعات میں 5افراد جاںبحق ہوگئے دیگر واقعات میں ایک شخص زخمی بھی ہوا ۔ تفصیلات کے مطابق فیڈرل بی ایریا صنعتی ایریا تھانے کی حدود فیڈرل بی ایریا انڈسٹریل ایریا بلاک 21نذد سجن کانٹا کے قریب ایک شخص کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہوگیا ،متوفی کی لاش کو گٹر سے نکال کر عباسی شہید اسپتال منتقل کر دیا گیا ،متوفی کی شناخت 70سالہ عنایت ولد برکت کے نام سے ہوئی ۔ڈاکس تھانے کی حدود لالا زار بیچ لگڑری ہوٹل کے قریب سمندر سے 40سالہ شخص کی ڈوبی ہوئی لاش ملی ہے، متوفی کی لاش کو قانونی کاروائی کے لیے سول اسپتال ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا ۔جمشید کواٹر تھانے کی حدود نزد یادگار فش پلاٹ نمبر JM.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: منتقل کر دیا گیا متوفی کی لاش کو تھانے کی حدود کے قریب
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔