غیر انسانی افعال کی ہلاکت خیزیاں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
پنشن یافتگان کے بارے میں سرکاری اداروںکا جو رویہ رہا ہے، اس کے بارے میں ایک بار راقم الحروف نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ پنشن خیرات نہیں ہے بلکہ یہ ایک شخص کی ایک مدت کی خدمات کا اعتراف ہوتا ہے۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں ایک سرکاری ملازم محمد عثمان کو اس کی 60 سالہ خدمات کے صلے میں مکمل پنشنری فوائد دینے کا حکم صادرکیا ہے۔
ہمارا ملک اقتصادی بحران کا شکار ہے۔ یہ بحران واقعی بھی ہے اور بعض صورتوں میں مصنوعی بھی۔ ہم بعض پیشوں اور ہوشیار افراد کی لوٹ مارکا سبب ہونے والے نقصانات کا ازالہ سرکاری ملازم کی پنشن کے واجبات کی ادائیگی کو قرار دیتے ہیں۔
کبھی کہا جاتا ہے کہ پنشن کی رقم قوم کے کاندھے کا بوجھ ہے، اسے فوراً بند کر دینا چاہیے، کبھی کوئی اسکیم گھڑ لی جاتی ہے جس کے تحت سرکاری ملازم مدت ملازمت کے اختتام پر ایک خاص رقم کا حق دار ہوگا اور پھر قصہ ختم۔ مگر یہ خاص رقم بھی خاص الخاص بنتی ہے اور ملکی اقتصادیات کا بوجھ ہی قرار پاتی ہے توکیا پنشنرکو پنشن ہوتے ہی ہلاک کردیا جائے تاکہ نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ جب پنشن کی رقم سے نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تو پنشن یافتگان کو طرح طرح کے خوفناک منصوبوں سے آشنا کیا جاتا ہے مگر ان میں سے کوئی بھی مسئلے کا حل نہیں ہوتا اور اس لیے پرنالہ وہیں گرتا رہتا ہے۔
پچھلے دنوں سپریم کورٹ میں ایک سرکاری ملازم عثمان کی پنشن کے واجبات کا مقدمہ پیش ہوا۔ اس شخص نے بیس سال کی کوالی فائنگ مدت مکمل کرنے کے بعد ملازمت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اس نے پنشن کے مطالبے میں تاخیر کی اور مطالبہ کیا تو فیڈرل سروس ٹریبونل نے اس کا مطالبہ مسترد کردیا۔ اس نے سپریم کورٹ میں اپیل کی۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پنشن کوئی خیرات نہیں ہے، بلکہ یہ سرکاری ملازم کی ایک مدت ملک کی خدمت کا اعتراف ہوتا ہے۔
چنانچہ جسٹس شفیع صدیقی نے ٹریبونل کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ ملازم نے 60 سالہ کوالی فائنگ مدت مکمل کرنے کے بعد استعفیٰ دیا لیکن پنشن کے واجبات طلب کرنے میں تاخیر ہوئی مگر تاخیر سے اس کے واجبات کا حق ختم نہیں ہوتا، اس لیے اسے تمام واجبات اور وہ فوائد جن کا وہ مستحق ہے ادا کیے جائیں۔جب تک حکومتی مشینری پنشن میں ادا کیے جانے والے اخراجات کے لیے کوئی مناسب صورت حال پیدا نہیں کر سکتی، اس وقت تک پنشنر کو موجودہ فوائد ملتے رہنا چاہئیںاور تنگ دستی سے آشنا کرنے کی کوئی بھی کوشش غیر انسانی فعل ہی شمار ہوگی۔غیر انسانی فعل کی بات نکلی ہے تو امریکی صدرکے کارنامے زیر بحث لائے بغیر چارہ نہیں کیوں کہ بین الاقوامی سطح پر موصوف کے اقدامات آمرانہ اور خالص غیر انسانی افعال ہیں۔
گرین لینڈ ڈنمارک کا حصہ ہے، رقبے کے اعتبار سے چھوٹا مگر فطرت کی عطاؤں کے اعتبار سے بڑا ملک ہے۔ وہ روایتی طور پر ڈنمارک کا حصہ رہا ہے، مگر اب مسٹر ٹرمپ کی نیت میں اس کے تعلق سے خرابی پیدا ہوگئی ہے۔ وہ اس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جب کہ ڈنمارک کا کہنا ہے کہ اگر گرین لینڈ کے مستقبل کا کوئی فیصلہ ہونا ہے تو وہ ڈنمارک اور گرین لینڈ کے عوام کو کرنا ہے ۔ مسٹر ٹرمپ کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔ گرین لینڈ کے اس موقف کی متعدد یورپی ممالک نے حمایت کی ہے جن میں سوئیڈن، ناروے، برطانیہ، نیدرلینڈ اور فن لینڈ شامل ہیں۔لیکن جناب ٹرمپ بزعم خود فرماتے ہیں کہ گرین لینڈ چھوٹا سا ملک ہے اور ڈنمارک اس کا دفاع کرنے کی صلاحیت قطعی نہیں رکھتا۔ گرین لینڈ عالمی سلامتی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
روس اور چین اس پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں اورگرین لینڈ کا دفاع امریکا کے علاوہ کوئی اور کر ہی نہیں سکتا۔دراصل شیر جب بلی کو کھانا چاہے تو اسے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی مگر وہ دنیا دکھاؤے کے لیے کوئی بہانہ ضرور بناتا ہے، اب گرین لینڈ کی ’’عالمی سلامتی کے لیے کلیدی حیثیت‘‘ اور اس کی سلامتی کا دنیا جہاں میں واحد ذمے دار امریکا کا ہونا انتہائی مناسب بہانہ ہے۔اس لیے امریکا نے فوری اقدام یہ کیا کہ ڈنمارک کی حمایت کرنے والے آٹھوں یورپی ممالک پر 10 فی صد ٹیرف فوری طور پر عائد کردیا ہے اور اسے بڑھا کر 25 فی صد تک کرنے کی نوید بھی سنا دی ہے تاکہ ڈنمارک کی حمایت میں کھڑے ہونے والے یورپی ممالک کی کمر توڑی جا سکے اور ان کی مناسب سرکوبی کی جا سکے۔خیال رہے کہ غزہ پر امریکی قبضے کی نئی صورت نکالی گئی ہے جو سامراجی ذہن کی عکاس ہے اور ہر سامراجی مزاج کا حامل اسی طرح برتاؤ کرتا ہے۔
غزہ امریکی اجارہ داری میں نہیں، مگر وہاں کے لیے صدر امریکا نے بغیر کسی لائسنس کے ازخود ایک ’’ بورڈ آف پیس‘‘ تشکیل دیا ہے جس کی کارکردگی کا وہ خود معائنہ کرتے رہیں گے۔ اس کے بانی ارکان مارکو روبیو اور ٹونی بلیئر ہوں گے۔ اس کے علاوہ میجر جنرل رینک کے امریکی فوجی عہدیدار کو بین الاقوامی فورس کا کمانڈر مقررکردیا ہے۔چلیے قصہ پاک ہوا، غزہ بھی مسٹر ٹرمپ کی جھولی میں اورگرین لینڈ بھی ان کی مٹھی میں۔ اب دنیا میں امن وچین کی بانسریاں بج رہی ہوں گی اور ہر طرف مسٹر ٹرمپ کی واہ واہ ہو رہی ہوگی، قصہ ختم، پیسہ ہضم !
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سرکاری ملازم سپریم کورٹ گرین لینڈ کے واجبات پنشن کے کے لیے ہے اور
پڑھیں:
باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔
باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔
کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔
حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔
باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔
دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔
شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔
باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔
اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔
یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔
اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔