توحید اور عقل کے پیمانے
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اللہ کی وحدانیت پر روز اول سے بحث جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گی۔ ہر دور میں بیشتر افراد نے اپنے اپنے ذہنی ارتقا کے مطابق اس پر دلائل پیش کیے، اس پر بحث کی، کتابیں لکھیں، مقالے پیش کیے، مناظرے کیے اور دنیا کو قائل کرتے رہے کہ وجود باری تعالیٰ برحق اور وحدانیت اس کی شرط ہے۔ بندہ ناچیز بھی خریداران یوسف میں نام لکھوانے کے لیے قلم کا سہارا لے رہا ہے شاید ہی ان موضوعات کو کسی نے توحید باری تعالیٰ کے حوالے سے دلیل کے طور پر پیش کیا ہو، تاہم میرے ناقص علم میں نہیں اور نہ ہی میری نظر سے گزری ہیں۔
اگر ہم دنیا کا مطالعہ کریں اور پھر انسانی فطرت کا مطالعہ کریں تو ایک چیز ہمارے سامنے آتی ہے کہ انسان نے جس دور میں جو بھی چیز ایجاد کی وہ اپنی اصلی حالت میں بمشکل کچھ عرصہ چلی ہے۔ بعد میں اس کی شکل تبدیل ہوئی یا تو اس میں ترقی ہوئی اور یا پھر وہ اس طرح غائب ہوئی کہ اب جب اس کے باقیات ان ہی انسانوں کے ہاتھ لگتے ہیں تو انہیں تعجب ہوتا ہے اور اس پر تحقیق کرتے ہیں کہ یہ کیا چیز ہے؟ کس لیے بنائی گئی تھی؟ اس کا کیا کام تھا؟ کس طرح کام کیا جاتا تھا اس سے؟ اور پھر اس سے اُس دور کے شعور، عقل ادراک اور مختلف پیمانوں کا اندازہ لگایا جاتا ہے، پھر اس دور کے مختلف مقامات اور جغرافیائی حدود کا جب مطالعہ کیا جاتا ہے تو ہر خطے کے معاشرتی تہذیبی اور تمدنی اقدار اور ضروریات ہمیں الگ الگ ملتی ہیں۔
اس طرح ایجادات بھی ہمیں الگ الگ ملتی ہیں۔ موجودہ دور کا اگر ہم مطالعہ کریں تو یہ بات اچھی طرح سمجھ آجاتی ہے کہ ایک ہی قسم کی مشینری یعنی موٹر سائیکل، ریفریجریٹر، موٹر کار، موبائل، ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹر، کمپیوٹر ہر جگہ موجود ہیں لیکن ہر مشینری ہر جگہ ایک دوسرے سے مختلف ہے ایسی کوئی ایجاد دنیا میں موجود نہیں ہے کہ پوری دنیا میں ایک جیسی ہو۔ اس کے تمام مٹیریل اور تفصیلات ایک جیسی ہوں اور وہ ایک جیسا کام سر انجام دیں۔ ہر ادارہ دوسرے سے مختلف چیز بنانے اور زیادہ سے زیادہ سہولت دینے اور معیار بہتر بنانے کا دعویٰ کرتا ہے اور کئی کمپنیاں ایمانداری کے ساتھ اچھی چیزیں تیار کرتی ہیں۔ ان کا معیار اور قیمت بھی اس لحاظ سے دیگر اداروں سے مختلف ہوتی ہے۔ کئی ایک کمپنیاں بے ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناقص مٹیریل استعمال کرکے بے کار چیزیں تیار کرتی ہیں۔ پھر اس حوالے سے ممالک بھی مشہور ہیں، میڈ ان کو دیکھ کر چیزوں کی اچھائی اور برائی کا فیصلہ معمول بن چکا ہے۔ کسی چیز میں جاپان مشہور ہے تو کسی میں جرمنی، کسی میں فرانس مشہور ہے تو کسی میں تھائیوان، کسی میں چین تو کسی میں دبئی، کسی میں بھارت تو کسی میں پاکستان۔ یعنی تمام ممالک کسی نے کسی حوالے سے اپنے ایجادات، تحقیقات، ایمانداری اور بے ایمانی کے حوالے سے مشہور ہیں۔ پھر ان ایجادات میں استعمال ہونے والا مٹیریل بھی مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے ان پر میعاد بھی درج ہوتی ہے کہ فلاں تاریخ تک کار آمد ہے اس کے بعد یہ کارآمد نہیں ہوگی۔
دوسری جانب دیکھا جائے تو ایک اور عجیب بات سامنے آجاتی ہے کہ جو بھی چیز تخلیق کی گئی ایک ہی مرتبہ بنائی گئی اور ایسی بنائی گئی کہ اس میں کسی اضافے یا کمی کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ کسی تحقیق کسی سائنس نے آج تک یہ بات نہیں کی انسان میں فلاں چیز کی کمی ہے اور فلاں چیز اضافی ہے۔ اس کا کوئی کام نہیں اس کے بغیر انسان کو یہ فائدہ ہوگا اور یہ چیز اگر نہ ہوتی تو انسان اس اس طرح مزید ترقی کرسکتا فلاں اور فلاں عضو انسان کی ترقی میں رکاوٹ ہیں اور فلاں عضو کی تعداد اگر بڑھائی جائے تو انسان کی صلاحیتیں اور بھی بڑھ جائیں گی۔
ایک اور رخ سے جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ پوری دنیا میں انسان کو یکساں پیدا کیا گیا ہے ایک ہی قسم کا مٹیریل استعمال کیا گیا ہے کسی کا اسٹیٹس دیکھ کر اور مالی حالت دیکھ کر اچھی پروڈکٹ پیش نہیں کی گئی۔ نہ ہی اس مشین کے استعمال میں کسی قسم کی کوئی تفاوت رکھی گئی ہے اور نہ ہی اس کے خوراک میں کمی کہ یہ مشین فلاں جگہ گھاس کھائے گی تو فلاں جگہ یہ پلائو اور فلاں جگہ پیزا یا برگر بلکہ ہر مشین کو مذکورہ خوراک کی پوری دنیا میں اجازت دی گئی ہے۔ جہاں، جب، جیسے جو میسر آجائے کھانے کی اجازت ہے۔
آج تک کسی نے بھی اس مشینری کی ایڈوانس شکل کو پیش نہیں کیا۔ کوئی ملک، ریاست یا ادارہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس نے انسانی مشینری کی جدید قسم کو تیار کیا ہے۔ نہ کسی اور قوت نے انسان کی کوئی دوسری شکل تیار کرکے دنیا میں بھیجی کہ دنیا دیکھ لے اور پسند آنے پر تیاری شروع کردے۔ نہ اس حوالے سے قوتوں کے درمیان کوئی کشمکش ریکارڈ کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی تشہیری مہم اس حوالے سے کبھی چلائی گئی ہے کہ ٹی وی ریڈیو بل بورڈ انٹرنیٹ اور دوسرے ذرائع ابلاغ سے تشہیر کی جائے کہ فلاں کمپنی کے انسان بہت فائدے مند ہیں۔ نہ ان کی کوئی بین الاقوامی نمائش تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے۔ چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے ہر ملک خواہ وہ کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو وہ انہی انسانوں پر گزارہ کررہا ہے اور انہی کا محتاج ہے۔ کوئی ایسی ریاست بھی دنیا میں ریکارڈ نہیں کی گئی ہے جو یہ کہے یا انہوں نے کسی زمانے میں یہ کہا ہو کہ ہمیں ان انسانوں کی ضرورت نہیں ہم اس سے بہتر چیزبنا سکتے ہیں۔
ایک اور رخ پر جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ پوری دنیا میں انسانوں کی پیدائش کا طریقہ کار ایک جیسا ہے ایک ہی فطری عمل کے نتیجے میں انسان وجود میں آتا ہے اس کے لیے سائنس نے کئی ایک طریقے تو ایجاد کرلیے ہیں لیکن دیکھا جائے تو اصل اس کا بھی وہی فطری عمل ہی ہے۔ کسی حد تک اس فطری عمل کا طریقہ کار تبدیل کیا گیا ہے، لیکن وہی ساری چیزیں اس میں بھی استعمال ہو رہی ہیں جو فطری عمل میں استعمال ہوتی ہیں۔ ان میں اگر کوئی مشین خراب ہے اور وہ کام نہیں کررہا ہے یا اس کی کارکردگی خراب ہے تو دنیا کے تمام ڈاکٹرز اور سائنسداں اسے ٹھیک کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ اگر کسی کے ہاں بچے معذور پیدا ہورہے ہیں تو کوئی ادارہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس جوڑے کے بچے پہلے معذور تھے ہمارے علاج کی بدولت ان کے بچے درست پیدا ہونے لگے ہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ ایک ہی قسم کی مشین ہوتی ہے وہی سب چیزیں موجود ہوتی ہیں جو کسی اور مشین میں ہوتی ہیں لیکن کبھی وہ ایک قسم کی چیز تیار کرتی ہے کبھی دوسری قسم کی۔ کبھی بنا ہوا مال خراب ہوتا ہے تو کبھی ایسا شاندار کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے یہ جو حسن کے عالمی مقابلے ہوتے ہیں، یہ کیا ہے؟ یہ بھی تو اسی مشینری کے تیار کردہ مال (کمال حسن) کا مقابلہ ہوتا ہے، اسی پر کسی کی دسترس نہیں ورنہ ہر فرد اپنے بچے مقابلہ حسن والے پیدا کرتا۔ اس میں کسی کی مال و دولت کسی کے اسٹیٹس کا عمل دخل نہیں کسی کی بزرگی اور کسی کا اقتدار بھی اس میں کوئی دخل اندازی نہیں کر سکتا۔ بس ایک نادیدہ قوت ہے وہ جس کو جس طرح چاہے مال تیار کرکے دے، اسے قبول کرنا پڑے گا، کوئی انکار بھی نہیں کرسکتا کہ یہ مال میرے کارخانے کا نہیں، میری مشینری نے تیار نہیں کیا ہے بلکہ اس کے شناختی دستاویزات وہ خود روز اول سے تیار کرتا ہے۔ تاکہ کوئی اور اس پر قابض نہ ہوجائے اس سے فطری محبت ہوتی ہے اس پر خرچہ کرتا ہے اور اس سے ایک تعلق بھی رکھتا ہے، اس کے نقصان پر اسے درد ہوتا ہے اور یہ عمل پوری دنیا میں ازل سے سے ابد تک ایک ہی طرح جاری ہے، اس میں کسی وقت کسی ایک لمحے کے لیے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اگر کوئی انکار کرتا ہے تو دنیا اسے شرمندہ کرتی ہے وہ خود منہ چھپاتا پھرتا ہے کسی بھی ملک یا مذہب میں اس مال کی کوئی حیثیت نہیں جو غلط طریقے سے تیار کیا گیا ہو۔ جب سے دنیا کی تاریخ ہے اس وقت سے لے کر آج تک انسان ایک ہی جیسا عمل کرتا چلا آرہا ہے لوگ گزرتے گئے افکار نظریات فلسفے پیش ہوتے رہے لیکن اس فطری عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
کسی نے خود پر نہیں سوچا، ہر فرد نے کائنات پر سوچنے کا کام کیا لیکن خود پر سوچنے کا کم موقع ملا، برسبیل تذکرہ اگر کوئی ذکر کیا ہو تو وہ ایک الگ بات ہے۔ آپ خود سوچیں دنیا میں کوئی ایک کارخانہ ایسا نہیں جو یہ دعویٰ کرسکے کہ ہماری پروڈکٹ پوری دنیا میں ایک جیسی ہے اور جب سے ہم نے کارخانہ کھولا ہے اس دن سے آج تک ہمارے میٹریل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہمارے بنانے کا انداز اور تمام چیزیں وہی ہیں۔ ہمارا کارخانہ کبھی بند نہیں ہوا اور یہ دن رات مسلسل کام کررہا ہے کبھی ہماری مشینری خراب نہیں ہوئی۔ ایک لمحے کے لیے اس میں کبھی رکاوٹ نہیں آئی۔ لیکن اس کے بر عکس انسان جس کارخانے سے بن کر آرہا ہے اس میں کسی ایک لمحے کا توقف بھی نہیں آیا۔ اور اسی طریقے سے کام میں مصروف ہے جس طریقے سے روز اول سے کام کرتا چلا آیا ہے۔
اتنی ساری وحدتیں ہر ذی عقل اور ذی شعور کو مجبور کردیتی ہیں کہ اس کارخانے کا چلانے والا بھی کوئی ایک ہی ہے۔ جو ایک ہی قسم کی چیزیں تیار کرتا ہے اور یہ جو لفظ Perfect ہے یہ اسی پر صادق آتا ہے۔ کم ازکم یہ تو کوئی نہیں کہے گا کہ اس کارخانے کے ایک سے زیادہ مالک ہیں۔ کوئی ایک دنیاوی مثال بھی اس کہانی کو سمجھا نہیں سکتی کہ آخر دنیا میں روز اول سے آج تک ایسا کیوں ہورہا ہے؟… اور یہ کب تک چلتا رہے گا؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پوری دنیا میں روز اول سے ایک ہی قسم تو کسی میں نہیں ا ئی اور فلاں میں کوئی حوالے سے کی کوئی نہیں کی کیا گیا نہیں کر ہوتا ہے کرتا ہے ہوتی ہے بھی اس قسم کی ہیں جو ہے اور اور اس کی گئی ہیں کہ گئی ہے کے لیے اور یہ ہیں تو
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔