Jasarat News:
2026-06-02@22:31:14 GMT

توحید اور عقل کے پیمانے

اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اللہ کی وحدانیت پر روز اول سے بحث جاری ہے اور تاقیامت جاری رہے گی۔ ہر دور میں بیشتر افراد نے اپنے اپنے ذہنی ارتقا کے مطابق اس پر دلائل پیش کیے، اس پر بحث کی، کتابیں لکھیں، مقالے پیش کیے، مناظرے کیے اور دنیا کو قائل کرتے رہے کہ وجود باری تعالیٰ برحق اور وحدانیت اس کی شرط ہے۔ بندہ ناچیز بھی خریداران یوسف میں نام لکھوانے کے لیے قلم کا سہارا لے رہا ہے شاید ہی ان موضوعات کو کسی نے توحید باری تعالیٰ کے حوالے سے دلیل کے طور پر پیش کیا ہو، تاہم میرے ناقص علم میں نہیں اور نہ ہی میری نظر سے گزری ہیں۔
اگر ہم دنیا کا مطالعہ کریں اور پھر انسانی فطرت کا مطالعہ کریں تو ایک چیز ہمارے سامنے آتی ہے کہ انسان نے جس دور میں جو بھی چیز ایجاد کی وہ اپنی اصلی حالت میں بمشکل کچھ عرصہ چلی ہے۔ بعد میں اس کی شکل تبدیل ہوئی یا تو اس میں ترقی ہوئی اور یا پھر وہ اس طرح غائب ہوئی کہ اب جب اس کے باقیات ان ہی انسانوں کے ہاتھ لگتے ہیں تو انہیں تعجب ہوتا ہے اور اس پر تحقیق کرتے ہیں کہ یہ کیا چیز ہے؟ کس لیے بنائی گئی تھی؟ اس کا کیا کام تھا؟ کس طرح کام کیا جاتا تھا اس سے؟ اور پھر اس سے اُس دور کے شعور، عقل ادراک اور مختلف پیمانوں کا اندازہ لگایا جاتا ہے، پھر اس دور کے مختلف مقامات اور جغرافیائی حدود کا جب مطالعہ کیا جاتا ہے تو ہر خطے کے معاشرتی تہذیبی اور تمدنی اقدار اور ضروریات ہمیں الگ الگ ملتی ہیں۔

اس طرح ایجادات بھی ہمیں الگ الگ ملتی ہیں۔ موجودہ دور کا اگر ہم مطالعہ کریں تو یہ بات اچھی طرح سمجھ آجاتی ہے کہ ایک ہی قسم کی مشینری یعنی موٹر سائیکل، ریفریجریٹر، موٹر کار، موبائل، ہوائی جہاز، ہیلی کاپٹر، کمپیوٹر ہر جگہ موجود ہیں لیکن ہر مشینری ہر جگہ ایک دوسرے سے مختلف ہے ایسی کوئی ایجاد دنیا میں موجود نہیں ہے کہ پوری دنیا میں ایک جیسی ہو۔ اس کے تمام مٹیریل اور تفصیلات ایک جیسی ہوں اور وہ ایک جیسا کام سر انجام دیں۔ ہر ادارہ دوسرے سے مختلف چیز بنانے اور زیادہ سے زیادہ سہولت دینے اور معیار بہتر بنانے کا دعویٰ کرتا ہے اور کئی کمپنیاں ایمانداری کے ساتھ اچھی چیزیں تیار کرتی ہیں۔ ان کا معیار اور قیمت بھی اس لحاظ سے دیگر اداروں سے مختلف ہوتی ہے۔ کئی ایک کمپنیاں بے ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ناقص مٹیریل استعمال کرکے بے کار چیزیں تیار کرتی ہیں۔ پھر اس حوالے سے ممالک بھی مشہور ہیں، میڈ ان کو دیکھ کر چیزوں کی اچھائی اور برائی کا فیصلہ معمول بن چکا ہے۔ کسی چیز میں جاپان مشہور ہے تو کسی میں جرمنی، کسی میں فرانس مشہور ہے تو کسی میں تھائیوان، کسی میں چین تو کسی میں دبئی، کسی میں بھارت تو کسی میں پاکستان۔ یعنی تمام ممالک کسی نے کسی حوالے سے اپنے ایجادات، تحقیقات، ایمانداری اور بے ایمانی کے حوالے سے مشہور ہیں۔ پھر ان ایجادات میں استعمال ہونے والا مٹیریل بھی مختلف ہوتا ہے۔ اس لیے ان پر میعاد بھی درج ہوتی ہے کہ فلاں تاریخ تک کار آمد ہے اس کے بعد یہ کارآمد نہیں ہوگی۔

دوسری جانب دیکھا جائے تو ایک اور عجیب بات سامنے آجاتی ہے کہ جو بھی چیز تخلیق کی گئی ایک ہی مرتبہ بنائی گئی اور ایسی بنائی گئی کہ اس میں کسی اضافے یا کمی کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ کسی تحقیق کسی سائنس نے آج تک یہ بات نہیں کی انسان میں فلاں چیز کی کمی ہے اور فلاں چیز اضافی ہے۔ اس کا کوئی کام نہیں اس کے بغیر انسان کو یہ فائدہ ہوگا اور یہ چیز اگر نہ ہوتی تو انسان اس اس طرح مزید ترقی کرسکتا فلاں اور فلاں عضو انسان کی ترقی میں رکاوٹ ہیں اور فلاں عضو کی تعداد اگر بڑھائی جائے تو انسان کی صلاحیتیں اور بھی بڑھ جائیں گی۔
ایک اور رخ سے جب ہم مطالعہ کرتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ پوری دنیا میں انسان کو یکساں پیدا کیا گیا ہے ایک ہی قسم کا مٹیریل استعمال کیا گیا ہے کسی کا اسٹیٹس دیکھ کر اور مالی حالت دیکھ کر اچھی پروڈکٹ پیش نہیں کی گئی۔ نہ ہی اس مشین کے استعمال میں کسی قسم کی کوئی تفاوت رکھی گئی ہے اور نہ ہی اس کے خوراک میں کمی کہ یہ مشین فلاں جگہ گھاس کھائے گی تو فلاں جگہ یہ پلائو اور فلاں جگہ پیزا یا برگر بلکہ ہر مشین کو مذکورہ خوراک کی پوری دنیا میں اجازت دی گئی ہے۔ جہاں، جب، جیسے جو میسر آجائے کھانے کی اجازت ہے۔

آج تک کسی نے بھی اس مشینری کی ایڈوانس شکل کو پیش نہیں کیا۔ کوئی ملک، ریاست یا ادارہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس نے انسانی مشینری کی جدید قسم کو تیار کیا ہے۔ نہ کسی اور قوت نے انسان کی کوئی دوسری شکل تیار کرکے دنیا میں بھیجی کہ دنیا دیکھ لے اور پسند آنے پر تیاری شروع کردے۔ نہ اس حوالے سے قوتوں کے درمیان کوئی کشمکش ریکارڈ کی گئی ہے اور نہ ہی کوئی تشہیری مہم اس حوالے سے کبھی چلائی گئی ہے کہ ٹی وی ریڈیو بل بورڈ انٹرنیٹ اور دوسرے ذرائع ابلاغ سے تشہیر کی جائے کہ فلاں کمپنی کے انسان بہت فائدے مند ہیں۔ نہ ان کی کوئی بین الاقوامی نمائش تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے۔ چاہتے ہوئے یا نہ چاہتے ہوئے ہر ملک خواہ وہ کتنا ہی ترقی یافتہ کیوں نہ ہو وہ انہی انسانوں پر گزارہ کررہا ہے اور انہی کا محتاج ہے۔ کوئی ایسی ریاست بھی دنیا میں ریکارڈ نہیں کی گئی ہے جو یہ کہے یا انہوں نے کسی زمانے میں یہ کہا ہو کہ ہمیں ان انسانوں کی ضرورت نہیں ہم اس سے بہتر چیزبنا سکتے ہیں۔

ایک اور رخ پر جب ہم دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ پوری دنیا میں انسانوں کی پیدائش کا طریقہ کار ایک جیسا ہے ایک ہی فطری عمل کے نتیجے میں انسان وجود میں آتا ہے اس کے لیے سائنس نے کئی ایک طریقے تو ایجاد کرلیے ہیں لیکن دیکھا جائے تو اصل اس کا بھی وہی فطری عمل ہی ہے۔ کسی حد تک اس فطری عمل کا طریقہ کار تبدیل کیا گیا ہے، لیکن وہی ساری چیزیں اس میں بھی استعمال ہو رہی ہیں جو فطری عمل میں استعمال ہوتی ہیں۔ ان میں اگر کوئی مشین خراب ہے اور وہ کام نہیں کررہا ہے یا اس کی کارکردگی خراب ہے تو دنیا کے تمام ڈاکٹرز اور سائنسداں اسے ٹھیک کرنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ اگر کسی کے ہاں بچے معذور پیدا ہورہے ہیں تو کوئی ادارہ یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ اس جوڑے کے بچے پہلے معذور تھے ہمارے علاج کی بدولت ان کے بچے درست پیدا ہونے لگے ہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ ایک ہی قسم کی مشین ہوتی ہے وہی سب چیزیں موجود ہوتی ہیں جو کسی اور مشین میں ہوتی ہیں لیکن کبھی وہ ایک قسم کی چیز تیار کرتی ہے کبھی دوسری قسم کی۔ کبھی بنا ہوا مال خراب ہوتا ہے تو کبھی ایسا شاندار کہ دنیا حیران رہ جاتی ہے یہ جو حسن کے عالمی مقابلے ہوتے ہیں، یہ کیا ہے؟ یہ بھی تو اسی مشینری کے تیار کردہ مال (کمال حسن) کا مقابلہ ہوتا ہے، اسی پر کسی کی دسترس نہیں ورنہ ہر فرد اپنے بچے مقابلہ حسن والے پیدا کرتا۔ اس میں کسی کی مال و دولت کسی کے اسٹیٹس کا عمل دخل نہیں کسی کی بزرگی اور کسی کا اقتدار بھی اس میں کوئی دخل اندازی نہیں کر سکتا۔ بس ایک نادیدہ قوت ہے وہ جس کو جس طرح چاہے مال تیار کرکے دے، اسے قبول کرنا پڑے گا، کوئی انکار بھی نہیں کرسکتا کہ یہ مال میرے کارخانے کا نہیں، میری مشینری نے تیار نہیں کیا ہے بلکہ اس کے شناختی دستاویزات وہ خود روز اول سے تیار کرتا ہے۔ تاکہ کوئی اور اس پر قابض نہ ہوجائے اس سے فطری محبت ہوتی ہے اس پر خرچہ کرتا ہے اور اس سے ایک تعلق بھی رکھتا ہے، اس کے نقصان پر اسے درد ہوتا ہے اور یہ عمل پوری دنیا میں ازل سے سے ابد تک ایک ہی طرح جاری ہے، اس میں کسی وقت کسی ایک لمحے کے لیے کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اگر کوئی انکار کرتا ہے تو دنیا اسے شرمندہ کرتی ہے وہ خود منہ چھپاتا پھرتا ہے کسی بھی ملک یا مذہب میں اس مال کی کوئی حیثیت نہیں جو غلط طریقے سے تیار کیا گیا ہو۔ جب سے دنیا کی تاریخ ہے اس وقت سے لے کر آج تک انسان ایک ہی جیسا عمل کرتا چلا آرہا ہے لوگ گزرتے گئے افکار نظریات فلسفے پیش ہوتے رہے لیکن اس فطری عمل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

کسی نے خود پر نہیں سوچا، ہر فرد نے کائنات پر سوچنے کا کام کیا لیکن خود پر سوچنے کا کم موقع ملا، برسبیل تذکرہ اگر کوئی ذکر کیا ہو تو وہ ایک الگ بات ہے۔ آپ خود سوچیں دنیا میں کوئی ایک کارخانہ ایسا نہیں جو یہ دعویٰ کرسکے کہ ہماری پروڈکٹ پوری دنیا میں ایک جیسی ہے اور جب سے ہم نے کارخانہ کھولا ہے اس دن سے آج تک ہمارے میٹریل میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ہمارے بنانے کا انداز اور تمام چیزیں وہی ہیں۔ ہمارا کارخانہ کبھی بند نہیں ہوا اور یہ دن رات مسلسل کام کررہا ہے کبھی ہماری مشینری خراب نہیں ہوئی۔ ایک لمحے کے لیے اس میں کبھی رکاوٹ نہیں آئی۔ لیکن اس کے بر عکس انسان جس کارخانے سے بن کر آرہا ہے اس میں کسی ایک لمحے کا توقف بھی نہیں آیا۔ اور اسی طریقے سے کام میں مصروف ہے جس طریقے سے روز اول سے کام کرتا چلا آیا ہے۔
اتنی ساری وحدتیں ہر ذی عقل اور ذی شعور کو مجبور کردیتی ہیں کہ اس کارخانے کا چلانے والا بھی کوئی ایک ہی ہے۔ جو ایک ہی قسم کی چیزیں تیار کرتا ہے اور یہ جو لفظ Perfect ہے یہ اسی پر صادق آتا ہے۔ کم ازکم یہ تو کوئی نہیں کہے گا کہ اس کارخانے کے ایک سے زیادہ مالک ہیں۔ کوئی ایک دنیاوی مثال بھی اس کہانی کو سمجھا نہیں سکتی کہ آخر دنیا میں روز اول سے آج تک ایسا کیوں ہورہا ہے؟… اور یہ کب تک چلتا رہے گا؟

ایچ آر مصور گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پوری دنیا میں روز اول سے ایک ہی قسم تو کسی میں نہیں ا ئی اور فلاں میں کوئی حوالے سے کی کوئی نہیں کی کیا گیا نہیں کر ہوتا ہے کرتا ہے ہوتی ہے بھی اس قسم کی ہیں جو ہے اور اور اس کی گئی ہیں کہ گئی ہے کے لیے اور یہ ہیں تو

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا