گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کردیا ہے۔
گورنر ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کو ایک ہفتہ ہونے والا ہے، لواحقین کی آہیں اور سسکیاں رک نہیں رہی ہیں۔میرے جذبات متاثرین کی فیملیز کے ساتھ ہیں ۔یہ فیملیز سوال کررہی ہیں کہ ہوا کیا ہے ، کیوں ہوا ہے ، کسی نے روکا کیوں نہیں ۔لوگ پوچھ رہے ہیں کہ ذمے دار کون ہے۔ وہ ہچکیاں ، مجبور بے بس لوگوں کا رونا کسی احساس رکھنے والے شخص کے لیے صدمے اور موت کا باعث ہونا چاہیے ۔
گورنر سندھ نے کہا کہ میرے جذبات تھے میں بھی وہاں گیا ۔جب میں نے دیکھا کہ آگ بڑھ رہی تھی ، پھیل رہی تھی دو گھنٹے بعد بارہ پچپن پر میں پہنچا ۔میں اس روڈ سے گیا جہاں بی آر ٹی کا کام چل رہا تھا ۔جب میں وہاں پہنچا تو ڈی آئی جی جنوبی ، ڈی آئی جی ٹریفک کو فون کیا ۔ڈی آئی جی ٹریفک کو بتایا گرومندر پر ٹریفک جام ہے وہ کھلوا دیں ۔میں نے لواحقین کو گلے سے لگایا ۔میں نے وہاں سے نیوی حکام کو فون کیا ۔آرمی ، نیوی ، کے پی ٹی ، رینجرز کو سلام جنھوں نے پہنچ کر 22 جانوں کو ریسکیو کیا ۔کور کمانڈر بھی واقعے کو مانیٹر کررہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ان لاشوں کے لواحقین پر مرہم رکھنے کے بجائے سیاسی بیانات دے کر انکے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے بعد بھی واقعے پر سیاست ہورہی ہے ۔بلیم گیم ہورہا ہے ، سازشیں ہورہی ہیں ایسا کوئی پلان بنایا جائے کہ کسی پر ملبہ ڈال کر ہم سرخرو ہو جائیں۔ذمے دار اپنے اوپر سے ذمے داری ہٹا کر دوسروں پر ڈال کو بری ہونا چاہتے ہیں ۔کچھ لوگ آگ میں جل کر مر گئے اور کچھ لوگ باہر معاشی طور پر مر گئے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ مجھے ظفر عباس نے بتایا کوئی کام نہیں ہورہا ہے۔ لواحقین خود پہنچ کر اپنے پیاروں کی باقیات جمع کررہے ہیں۔ میں نے نہیں کہا کہ وزیراعلیٰ اور مئیر کیوں نہیں پہنچے ۔میں وہاں سیاست کرنے نہیں گیا تھا ۔شہر مشتعل تھا ، لوگ مشتعل تھے ، زبان قابو میں رکھی ایک ذمے دار شہری ہونے کا ثبوت دیا ۔اگر سیاست کرنا ہوتی تو ہم سے بڑی سیاست کون کرسکتا ہے ۔اس شہر میں یہ تعین نہیں ہوا کہ انتظامیہ میں سے ذمے دار کون تھا ۔ہائیڈرنٹس کون چلا رہا ہے ، کتنے ان میں سے غیر قانونی ہیں۔
مزید پڑھیںسانحہ گل پلازہ: لاپتا افراد کے اہل خانہ کا صبر کا پیمانہ لبریز، انتظامیہ کیخلاف احتجاج
سانحہ گل پلازہ، ملبے سے مزید باقیات برآمد، جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی
گورنر سندھ نے کہا کہ حل نکالنے کے بجائے سازشیں تیار ہونا شروع ہوگئی ہیں ۔سازشیں کرنی ہیں تو بھائی ہم بھی تیار بیٹھے ہیں ۔تین سالہ ابراہیم گٹر میں گر کر مر جائے اور ہم چپ بیٹھیں ۔ہم بولیں گے تو میسج آئے گا کہ گورنر صاحب آپ نہیں بولیے گا۔ آپ کا اختیار نہیں آپ کی کرسی ہل جائے گی ۔میں کمزور نہیں تمھارے ڈرانے سے دھمکانے سے رک جاؤں گا ۔
میں سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر مطالبہ کروں گا کہ اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔گورنر سندھ نے کہا کہ اس واقعے کو سیاسی رنگ نہ دیں اب نہیں چلے گا ، یہ کیس بند نہیں ہوگا ۔تاریخ میں لکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سے کہوں گا کہ انتظامیہ کو رکھیں ۔کیا لوگ اپ کو مس گائیڈ تو نہیں کر رہے ۔کیوں دو گھنٹے تک آگ نہیں بجھ سکیں۔صرف کچھ لوگوں کو ہٹا کر لوگوں کے جذبات ٹھنڈے نہیں ہوں گے۔
گورنر سندھ نے کہا کہ میں چشم دید گواہ ہوں کہ وہاں کیسے کام ہورہا تھا ۔لوگ جل کر مر جائیں ،لوگ ٹرالر کے نیچے آجائیں ، گٹر میں گر کر مر جائیں ہم سیاست کررہے ہیں ۔شرم نہیں آرہی ہے۔گورنر سندھ نے کہا کہ یہ جو چار دن سے ہورہا ہے۔ نہ یہ غلط ہے ۔میرا وہاں پہنچنا بھی کسی کو ہضم نہیں ہورہا ۔اب کچھ ایسا کریں کہ یہ ملبہ ان سے ہٹے ۔ارے تم سازش کر لو لیکن کیا قدرت ، خدا کی ذات تمھیں چھوڑ دے گی ۔جن اداروں کا یہ کام تھا وہی ادارے اسکے ذمے دار ہیں۔تحقیقات وہاں ہوتی ہے جہاں ذمے داروں کا معلوم نہ ہو ۔یہاں تو سب کو پتہ ہے کہ ذمے دار کون ہے۔
گورنر سندھ نے کہا ریسکیو بروقت کیوں نہیں پہنچی ۔کیوں نہ آگ بجھائی جاسکی۔کیوں دو گھنٹے تک انتظار ہوتا رہا ۔لواحقین مجھ سے کہتے ہیں کہ جوڈیشل انکوائری سے کم پر یہ راضی نہیں۔گورنر سندھ نے کہا کہ جو ضلعی انتظامیہ کے ایم سی ہے وہ کئی سالوں سے سیٹوں پر بیٹھے ہیں ۔کیا اس سے پہلے جتنی آگ لگی ہیں انکی تحقیقات ہوگئی۔ ذمے داروں کا تعین سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کریں ، کمیشن بنائیں جو سیاسی بلیم گیم کر رہے ہیں ان کو بھی اس میں شامل کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گورنر سندھ نے کہا کہ جوڈیشل انکوائری سانحہ گل پلازہ رہے ہیں کیوں نہ کچھ لوگ ہیں کہ
پڑھیں:
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے ایک بار پھر فاضل چینی کی فوری برآمد کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ اضافی چینی بیرون ملک فروخت کرنے سے ملک کو قریباً 50 کروڑ ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ماہرین اور صارفین کے حلقوں میں اس مطالبے پر تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ گزشتہ برس بھی چینی کی برآمد کی اجازت کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں 50 سے 60 روپے فی کلو کا نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
مزید پڑھیں: فاضل چینی برآمد کرنے کی اجازت دی جائے، ملک کو 50 کروڑ ڈالر زرمبادلہ مل سکتا ہے: شوگر ملز ایسوسی ایشن
پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین چوہدری ذکا اشرف نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو ارسال کیے گئے خط میں کہا ہے کہ 26-2025 کے کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے مجموعی ذخائر 79 لاکھ میٹرک ٹن تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ ملک کی سالانہ ضرورت قریباً 66 لاکھ میٹرک ٹن ہے، اس طرح ملک میں 13 لاکھ میٹرک ٹن چینی سرپلس موجود ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق ایک ماہ کا تزویراتی ذخیرہ محفوظ رکھنے کے باوجود قریباً 7 لاکھ 60 ہزار میٹرک ٹن چینی اضافی رہے گی، جسے برآمد کرکے ملک کے لیے قیمتی زرمبادلہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ فروخت نہ ہونے والے ذخائر کی وجہ سے شوگر ملوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے جبکہ گنے کے کاشتکاروں کی ادائیگیوں اور بینک قرضوں کی واپسی میں بھی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔
پی ایس ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ 2 برسوں کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بہتر نرخوں پر ادائیگی کی گئی جس کے باعث گنے کی کاشت اور فی ایکڑ پیداوار میں نمایاں اضافہ ہوا۔
ایسوسی ایشن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو آئندہ سیزن میں مزید ریکارڈ گنے کی فصل پیدا ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں قریباً 20 لاکھ میٹرک ٹن اضافی چینی مارکیٹ میں آ سکتی ہے۔
دوسری جانب صارفین اور معاشی ماہرین شوگر ملز کے اس مؤقف کو تنقیدی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران بھی حکومت نے چینی برآمد کرنے کی اجازت دی تھی اور اس وقت حکومتی اور صنعتی حلقوں کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ برآمدات سے مقامی مارکیٹ میں قیمتوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور چینی کی دستیابی برقرار رہے گی۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25-2024 کے دوران 67 شوگر ملوں نے مجموعی طور پر 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد کی جس سے قریباً 40 کروڑ ڈالر کا زرمبادلہ حاصل ہوا۔ تاہم برآمدات کے بعد ملک میں چینی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق 2 ماہ قبل پرچون سطح پر چینی کی قیمت قریباً 140 روپے فی کلو تھی جبکہ تھوک مارکیٹ میں 50 کلوگرام کا تھیلا قریباً 6 ہزار 200 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔
موجودہ صورتحال میں پرچون قیمت 190 سے 200 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ 50 کلوگرام کے تھیلے کی قیمت بڑھ کر 9 ہزار 100 روپے تک جا پہنچی ہے۔
قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے بعد گزشتہ سال حکومت نے ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کے خلاف کارروائیوں کا اعلان بھی کیا تھا۔
تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں چینی کی قیمتوں کو مؤثر طور پر کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔
شوگر ملز ایسوسی ایشن کا مؤقف ہے کہ چینی کو ذخیرہ کرنے کی مدت قریباً 2 سال ہوتی ہے اور اگر گزشتہ سال 7 لاکھ 49 ہزار ٹن چینی برآمد نہ کی جاتی تو اس کے ضائع ہونے کا خدشہ تھا۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اضافی ذخائر کا دعویٰ کیا جاتا ہے جبکہ دوسری جانب برآمدات کے فوراً بعد مقامی مارکیٹ میں قیمتوں میں نمایاں اضافہ سامنے آ جاتا ہے، جس کی وجہ سے برآمدی پالیسی پر سوالات جنم لیتے ہیں۔
مزید پڑھیں: چینی کی قیمتوں میں اضافہ: کس شوگر مل کے پاس کتنی چینی اسٹاک ہے؟
اب جبکہ شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک مرتبہ پھر چینی برآمد کرنے کی اجازت مانگی ہے، حکومت کو ایک ایسے فیصلے کا سامنا ہے جس میں ایک طرف زرمبادلہ کمانے کا امکان موجود ہے تو دوسری طرف عوام کو سستی چینی کی فراہمی اور قیمتوں کو قابو میں رکھنے کا چیلنج بھی درپیش ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر برآمدات کی اجازت دی جاتی ہے تو حکومت کو سخت نگرانی، شفاف اسٹاک آڈٹ اور قیمتوں کے مؤثر کنٹرول کے لیے جامع حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ گزشتہ سال کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں