data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(اسٹاف رپورٹر) کراچی کے علاقے صدر میںایم جناح روڈ پر واقع گل پلازہ پر آتشزدگی کے چھٹے روزہ بھی ریکوری اینڈ سرچ آپریشن جاری رہا اور اس دوران مزید باقیات برآمد کرلی گئی ہیں۔ ترجمان محکمہ صحت کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی ہے اورلاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاشوں اور جسم کے مختلف اعضا سے 45 ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں، 8 افراد کی شناخت ڈی این اے سے مکمل ہوگئی ہے۔ترجمان نے بتایا کہ 6 لاشیں مکمل تھیں اور ایک کو شناختی کارڈ سے شناخت کیا گیا۔گل پلازہ کے متاثرین نے جمعرات کو شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرے میں بڑی تعداد میں خواتین شریک تھیں، جنہوں نے ایم اے جناح روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر کے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی روز سے وہ اپنے پیاروں کی باقیات اور دکانوں میں موجود قیمتی سامان و نقدی کی واپسی کے لیے چکر کاٹ رہے ہیں، لیکن پولیس اور رینجرز انہیں عمارت کے اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہی۔ خواتین نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ ہماری زندگی بھر کی جمع پونجی اور اپنوں کی نشانیاں ملبے تلے دبی ہیں، ہمیں اندر کیوں نہیں جانے دیا جا رہا۔موقع پر موجود پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے سیکیورٹی وجوہات اور عمارت کی مخدوش حالت کا حوالہ دیتے ہوئے خواتین کو داخلے سے روکا۔ اس دوران مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان شدید تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی دیکھنے میں آئی۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ عمارت کا ڈھانچہ آگ کی وجہ سے کمزور ہو چکا ہے اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کا اندر جانا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔خواتین کے احتجاج اور دھرنے کی وجہ سے ایم اے جناح روڈ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ تبت سینٹر سے لے کر جامع کلاتھ تک ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔احتجاج میں شریک خواتین نے مطالبہ کیا کہ لاپتا افراد کی شناخت کے عمل کو تیز کیا جائے۔ دکانوں کے لاکرز اور درازوں سے ملنے والی نقدی اور سامان فوری طور پر اصل مالکان کے حوالے کیا جائے۔ اگر عمارت خطرناک ہے تو ماہرین کی نگرانی میں انہیں اپنا سامان نکالنے کا موقع دیا جائے۔پولیس کے اعلیٰ حکام نے مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی اور یقین دہانی کرائی کہ شفاف انکوائری اور سامان کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی، جس کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کرنے پر غور کیا۔ علاوہ ازیں ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے کہا ہے کہ 80 فیصد سرچ آپریشن مکمل ہوچکا ہے اور 80 فیصد لاشوں کو تلاش کیا جاچکا ہے۔ان کا کہناتھا کہ پلازہ کی آگ صرف شارٹ سرکٹ کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے، مکمل تحقیقات ہوں گی،77افراداب بھی لاپتا ہیں۔ انہوں نے صحافیوں کوبتایا کہ متاثرہ عمارت میں ریسکیو اہلکاروں کو بھیج رہے ہیں ، مشینری کو اس لیے روک رہے کہ ریسکیو ورکرز کو اندر جانا ہے، عمارت کی حالت بہت خراب ہے کسی بھی وقت گرسکتی ہے، عمارت کا 40 فیصد حصّہ گرا ہوا ہے اس کو چھوڑ کر باقی کو سرچ کرلیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام سوشل میڈیا کی خبروں پر بھروسہ نہیں کریں، جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھے گی آگاہ کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر جنوبی نے کہا کہ کونسے دروازے بند تھے کونسے کھلے تھے،اس کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے، جس کی بھی غفلت سامنے آئی، اس کے خلاف کارروائی ہوگی، تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اب پلازے کا وہ حصہ رہ گیا جو دونوں طرف سے گرا ہوا ہے، دروازوں کے بارے میں کل گواہان سے بیانات لے لیے ہیں۔ریسکیو 1122کو فائنل سرچ کا حکم دے دیا گیا، فائنل سرچ کے بعد گل پلازہ کی عمارت مسمار کر دیا جائے گا۔دوسری جانب صدرگل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن تنویر پاستا کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کے راستے بند نہیں تھے، ایمرجنسی ریمپ بھی کھلا تھا، مسجد سے باہر جانے کے دو راستے بھی کھلے ہوئے تھے، بجلی بند نہ کرتے تو جو لوگ باہر نکلے وہ بھی نہیں نکل سکتے تھے۔ادھر تفتیشی حکام نے گل پلازہ آتشزدگی کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی۔ جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں لگی بلکہ ممکنہ طور پر ماچس یا لائٹر سے لگی۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات سے تیار کی گئی ہے۔ جس کے مطابق گل پلازہ میں آگ سب سے پہلے ایک مصنوعی پھولوں کی دکان میں لگی۔ جہاں اس وقت بچے موجود تھے اور کھیل رہے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بچے دکان میں ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے۔ جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آگ دکان میں موجود سامان کو لپیٹ میں لینے کے بعد بجلی کی تاروں کے ذریعے دیگر حصوں میں پھیل گئی۔ آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد نے باہر نکلنے کی کوشش کی تاہم خارجی راستوں پر دروازے بند ہونے کے باعث شدید بھگدڑ مچ گئی۔تحقیقات کے مطابق آتشزدگی کے وقت عمارت میں زیادہ تر دکانیں کھلی ہوئی تھیں جبکہ چھت کی جانب جانے والے راستے پر گرل نصب تھی جس سے انخلا میں مزید مشکلات پیش آئیں۔ آگ کے نتیجے میں عمارت میں نصب سی سی ٹی وی نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ جس کی وجہ سے واقعے کی مکمل وڈیوز ستیاب نہیں ہو سکیں۔حکام کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذمے داروں کے تعین کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔علاوہ ازیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور پاکستان انجینئرنگ کونسل نے گل پلازہ کا دورہ کیا، تکنیکی کمیٹی نے گل پلازہ کو مخدوش قرار دے دیا ہے۔کمیٹی نے سفارش کی کہ گل پلازہ کو ریسکیو آپریشن کے بعد گرا دیا جائے۔ قبلازیں سانحہ گل پلازہ کے بعد سندھ حکومت نے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے میونسپل کمشنر کراچی افضل زیدی کو عہدے سے ہٹا دیا ہے جب کہ ان کی جگہ گریڈ 19 کی خاتون افسر سمیرا حسین کو اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔جمعرات کو چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے میونسپل کمشنر کراچی افضل زیدی کی برطرفی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ واضح رہے کہ سابق میونسپل کمشنر افضل زیدی 30 نومبر کو 3 سالہ ابراھیم کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے پر تنقید کی زد میں تھے۔حکومت سندھ کے ذرائع کے مطابق گل پلازہ میں ہونے والی آتشزدگی میں بھی افضل زیدی کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں تھی۔پولیس سرجن اور ڈی این اے لیب کی رپورٹ کے بعد مزید 3 جاں بحق افراد کی باقاعدہ شناخت کر لی گئی ہے، جن کی میتیں ضروری قانونی کارروائی کے بعد ان کے پیاروں کے سپرد کر دی گئیں۔شناخت ہونے والے افراد میں دکاندار اور ملازمین شامل ہیں جو روزگار کے سلسلے میں مارکیٹ میں موجود تھے،47سالہ سرفراز ولد نور محمد گارڈن کا رہائشی ہے ,سرفراز گل پلازہ میں گفٹ آئٹمز کی اپنی دکان چلاتا تھا۔ ڈی این اے میچ ہونے کے بعد لواحقین نے لاش وصول کر لی۔ جبکہ 24سالہ محمد عثمان ولد گل فیض سائٹ ایریا میٹروول کا رہائشی ہے نوجوان محمد عثمان مارکیٹ میں کراکری کی ایک دکان پر کام کرتا تھا۔ حادثے کے روز وہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے آگ کی زد میں آ کر جاں بحق ہوا۔ اسی طرح 24سالہ محمد رضوان ولد محمد حفیظ کا تعلق پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے تھا۔ وہ گل پلازہ میں فوٹو فریم کی دکان پر ملازم تھا اور محنت مزدوری کے لیے کراچی میں مقیم تھا۔میتیں وصول کرتے وقت اسپتال میں انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ مقتولین کے لواحقین کا کہنا تھا کہ شناخت کے طویل انتظار نے ان کی اذیت میں مزید اضافہ کر دیا تھا تاہم اب وہ اپنے پیاروں کی تدفین کر سکیں گے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دیگر باقیات کی شناخت کے لیے بھی لیبارٹری ٹیسٹ کا عمل ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے تاکہ تمام جاں بحق افراد کو ان کے آبائی علاقوں میں سپردِ خاک کیا جا سکے۔مزید برآں متاثرین کے مسائل اور نقصانات کے ازالے کے لیے صوبائی وزیرِ صنعت و تجارت جام اکرام اللہ دھاریجو اور صوبائی وزیر برائے بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس سندھ سیکرٹریٹ میں واقع اولڈ کے ڈی اے بلڈنگ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری صنعت و تجارت شادیہ جعفر اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے جبکہ آل پاکستان انجمنِ تاجران سندھ کے وفد نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ وفد کی قیادت صدر جاوید قریشی کر رہے تھے۔اجلاس میں گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کے مسائل، جانی و مالی نقصانات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔جام اکرام اللہ دھاریجو نے یقین دہانی کرائی کہ گل پلازہ کے متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کے کاروبار کی بحالی کے لیے متبادل انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں گل پلازہ کے افضل زیدی ڈی این اے ا تشزدگی انہوں نے افراد کی کے مطابق کے بعد گیا ہے کے لیے نے کہا کہا کہ گئی ہے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق