سانحہ گل پلازہ :اموات 67ہو گئیں‘ 77 لاپتا ۔ آگ شارٹ سرکٹ سے نہیں لگی‘تفتیشی حکام
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر) کراچی کے علاقے صدر میںایم جناح روڈ پر واقع گل پلازہ پر آتشزدگی کے چھٹے روزہ بھی ریکوری اینڈ سرچ آپریشن جاری رہا اور اس دوران مزید باقیات برآمد کرلی گئی ہیں۔ ترجمان محکمہ صحت کے مطابق جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی ہے اورلاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل کرلیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ لاشوں اور جسم کے مختلف اعضا سے 45 ڈی این اے کے نمونے حاصل کیے گئے ہیں، 8 افراد کی شناخت ڈی این اے سے مکمل ہوگئی ہے۔ترجمان نے بتایا کہ 6 لاشیں مکمل تھیں اور ایک کو شناختی کارڈ سے شناخت کیا گیا۔گل پلازہ کے متاثرین نے جمعرات کو شدید احتجاج کیا ہے۔ مظاہرے میں بڑی تعداد میں خواتین شریک تھیں، جنہوں نے ایم اے جناح روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر کے انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ گزشتہ کئی روز سے وہ اپنے پیاروں کی باقیات اور دکانوں میں موجود قیمتی سامان و نقدی کی واپسی کے لیے چکر کاٹ رہے ہیں، لیکن پولیس اور رینجرز انہیں عمارت کے اندر جانے کی اجازت نہیں دے رہی۔ خواتین نے دہائی دیتے ہوئے کہا کہ ہماری زندگی بھر کی جمع پونجی اور اپنوں کی نشانیاں ملبے تلے دبی ہیں، ہمیں اندر کیوں نہیں جانے دیا جا رہا۔موقع پر موجود پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے سیکیورٹی وجوہات اور عمارت کی مخدوش حالت کا حوالہ دیتے ہوئے خواتین کو داخلے سے روکا۔ اس دوران مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان شدید تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی دیکھنے میں آئی۔ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ عمارت کا ڈھانچہ آگ کی وجہ سے کمزور ہو چکا ہے اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کا اندر جانا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔خواتین کے احتجاج اور دھرنے کی وجہ سے ایم اے جناح روڈ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ تبت سینٹر سے لے کر جامع کلاتھ تک ٹریفک کی روانی بری طرح متاثر ہوئی، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔احتجاج میں شریک خواتین نے مطالبہ کیا کہ لاپتا افراد کی شناخت کے عمل کو تیز کیا جائے۔ دکانوں کے لاکرز اور درازوں سے ملنے والی نقدی اور سامان فوری طور پر اصل مالکان کے حوالے کیا جائے۔ اگر عمارت خطرناک ہے تو ماہرین کی نگرانی میں انہیں اپنا سامان نکالنے کا موقع دیا جائے۔پولیس کے اعلیٰ حکام نے مظاہرین سے مذاکرات کی کوشش کی اور یقین دہانی کرائی کہ شفاف انکوائری اور سامان کی حفاظت یقینی بنائی جائے گی، جس کے بعد مظاہرین نے احتجاج ختم کرنے پر غور کیا۔ علاوہ ازیں ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو نے کہا ہے کہ 80 فیصد سرچ آپریشن مکمل ہوچکا ہے اور 80 فیصد لاشوں کو تلاش کیا جاچکا ہے۔ان کا کہناتھا کہ پلازہ کی آگ صرف شارٹ سرکٹ کہہ کر نہیں چھوڑ سکتے، مکمل تحقیقات ہوں گی،77افراداب بھی لاپتا ہیں۔ انہوں نے صحافیوں کوبتایا کہ متاثرہ عمارت میں ریسکیو اہلکاروں کو بھیج رہے ہیں ، مشینری کو اس لیے روک رہے کہ ریسکیو ورکرز کو اندر جانا ہے، عمارت کی حالت بہت خراب ہے کسی بھی وقت گرسکتی ہے، عمارت کا 40 فیصد حصّہ گرا ہوا ہے اس کو چھوڑ کر باقی کو سرچ کرلیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام سوشل میڈیا کی خبروں پر بھروسہ نہیں کریں، جیسے جیسے تحقیقات آگے بڑھے گی آگاہ کیا جائے گا۔ڈپٹی کمشنر جنوبی نے کہا کہ کونسے دروازے بند تھے کونسے کھلے تھے،اس کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے، جس کی بھی غفلت سامنے آئی، اس کے خلاف کارروائی ہوگی، تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اب پلازے کا وہ حصہ رہ گیا جو دونوں طرف سے گرا ہوا ہے، دروازوں کے بارے میں کل گواہان سے بیانات لے لیے ہیں۔ریسکیو 1122کو فائنل سرچ کا حکم دے دیا گیا، فائنل سرچ کے بعد گل پلازہ کی عمارت مسمار کر دیا جائے گا۔دوسری جانب صدرگل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن تنویر پاستا کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کے راستے بند نہیں تھے، ایمرجنسی ریمپ بھی کھلا تھا، مسجد سے باہر جانے کے دو راستے بھی کھلے ہوئے تھے، بجلی بند نہ کرتے تو جو لوگ باہر نکلے وہ بھی نہیں نکل سکتے تھے۔ادھر تفتیشی حکام نے گل پلازہ آتشزدگی کی ابتدائی رپورٹ تیار کر لی۔ جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں لگی بلکہ ممکنہ طور پر ماچس یا لائٹر سے لگی۔ حکام کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی رپورٹ عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات سے تیار کی گئی ہے۔ جس کے مطابق گل پلازہ میں آگ سب سے پہلے ایک مصنوعی پھولوں کی دکان میں لگی۔ جہاں اس وقت بچے موجود تھے اور کھیل رہے تھے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بچے دکان میں ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے۔ جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آگ دکان میں موجود سامان کو لپیٹ میں لینے کے بعد بجلی کی تاروں کے ذریعے دیگر حصوں میں پھیل گئی۔ آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد نے باہر نکلنے کی کوشش کی تاہم خارجی راستوں پر دروازے بند ہونے کے باعث شدید بھگدڑ مچ گئی۔تحقیقات کے مطابق آتشزدگی کے وقت عمارت میں زیادہ تر دکانیں کھلی ہوئی تھیں جبکہ چھت کی جانب جانے والے راستے پر گرل نصب تھی جس سے انخلا میں مزید مشکلات پیش آئیں۔ آگ کے نتیجے میں عمارت میں نصب سی سی ٹی وی نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ جس کی وجہ سے واقعے کی مکمل وڈیوز ستیاب نہیں ہو سکیں۔حکام کا کہنا ہے کہ مزید تحقیقات جاری ہیں اور ذمے داروں کے تعین کے بعد قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔علاوہ ازیں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی اور پاکستان انجینئرنگ کونسل نے گل پلازہ کا دورہ کیا، تکنیکی کمیٹی نے گل پلازہ کو مخدوش قرار دے دیا ہے۔کمیٹی نے سفارش کی کہ گل پلازہ کو ریسکیو آپریشن کے بعد گرا دیا جائے۔ قبلازیں سانحہ گل پلازہ کے بعد سندھ حکومت نے بڑا اقدام اٹھاتے ہوئے میونسپل کمشنر کراچی افضل زیدی کو عہدے سے ہٹا دیا ہے جب کہ ان کی جگہ گریڈ 19 کی خاتون افسر سمیرا حسین کو اضافی چارج دے دیا گیا ہے۔جمعرات کو چیف سیکرٹری سندھ آصف حیدر شاہ نے میونسپل کمشنر کراچی افضل زیدی کی برطرفی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ واضح رہے کہ سابق میونسپل کمشنر افضل زیدی 30 نومبر کو 3 سالہ ابراھیم کے گٹر میں گر کر جاں بحق ہونے کے واقعے پر تنقید کی زد میں تھے۔حکومت سندھ کے ذرائع کے مطابق گل پلازہ میں ہونے والی آتشزدگی میں بھی افضل زیدی کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں تھی۔پولیس سرجن اور ڈی این اے لیب کی رپورٹ کے بعد مزید 3 جاں بحق افراد کی باقاعدہ شناخت کر لی گئی ہے، جن کی میتیں ضروری قانونی کارروائی کے بعد ان کے پیاروں کے سپرد کر دی گئیں۔شناخت ہونے والے افراد میں دکاندار اور ملازمین شامل ہیں جو روزگار کے سلسلے میں مارکیٹ میں موجود تھے،47سالہ سرفراز ولد نور محمد گارڈن کا رہائشی ہے ,سرفراز گل پلازہ میں گفٹ آئٹمز کی اپنی دکان چلاتا تھا۔ ڈی این اے میچ ہونے کے بعد لواحقین نے لاش وصول کر لی۔ جبکہ 24سالہ محمد عثمان ولد گل فیض سائٹ ایریا میٹروول کا رہائشی ہے نوجوان محمد عثمان مارکیٹ میں کراکری کی ایک دکان پر کام کرتا تھا۔ حادثے کے روز وہ اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے آگ کی زد میں آ کر جاں بحق ہوا۔ اسی طرح 24سالہ محمد رضوان ولد محمد حفیظ کا تعلق پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے تھا۔ وہ گل پلازہ میں فوٹو فریم کی دکان پر ملازم تھا اور محنت مزدوری کے لیے کراچی میں مقیم تھا۔میتیں وصول کرتے وقت اسپتال میں انتہائی رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ مقتولین کے لواحقین کا کہنا تھا کہ شناخت کے طویل انتظار نے ان کی اذیت میں مزید اضافہ کر دیا تھا تاہم اب وہ اپنے پیاروں کی تدفین کر سکیں گے۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دیگر باقیات کی شناخت کے لیے بھی لیبارٹری ٹیسٹ کا عمل ترجیحی بنیادوں پر جاری ہے تاکہ تمام جاں بحق افراد کو ان کے آبائی علاقوں میں سپردِ خاک کیا جا سکے۔مزید برآں متاثرین کے مسائل اور نقصانات کے ازالے کے لیے صوبائی وزیرِ صنعت و تجارت جام اکرام اللہ دھاریجو اور صوبائی وزیر برائے بلدیات سید ناصر حسین شاہ کی زیر صدارت اہم اجلاس سندھ سیکرٹریٹ میں واقع اولڈ کے ڈی اے بلڈنگ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سیکرٹری صنعت و تجارت شادیہ جعفر اور دیگر اعلیٰ حکام شریک ہوئے جبکہ آل پاکستان انجمنِ تاجران سندھ کے وفد نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ وفد کی قیادت صدر جاوید قریشی کر رہے تھے۔اجلاس میں گل پلازہ کے متاثرہ تاجروں کے مسائل، جانی و مالی نقصانات اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔جام اکرام اللہ دھاریجو نے یقین دہانی کرائی کہ گل پلازہ کے متاثرین کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور ان کے کاروبار کی بحالی کے لیے متبادل انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ گل پلازہ میں گل پلازہ کے افضل زیدی ڈی این اے ا تشزدگی انہوں نے افراد کی کے مطابق کے بعد گیا ہے کے لیے نے کہا کہا کہ گئی ہے
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔