افغانستان میں غذائی بحران شدت اختیار کر گیا، عالمی اداروں کی نئی وارننگ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کابل ( آن لائن)افغانستان میں جاری غذائی بحران پر ایک بار پھر سنگین خدشات سامنے آئے ہیں۔ افغان اخبار ہشت صبح کی رپورٹ اور عالمی اداروں کے تخمینوں کے مطابق طالبان کے زیرِ انتظام ملک میں لاکھوں افراد شدید بھوک، غربت اور معاشی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ہشت صبح کے مطابق ملک بھر میں خوراک کی قلت نے انسانی المیے کی صورت اختیار کر لی ہے، جہاں بڑی آبادی روزمرہ ضروریات پوری کرنے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی خوراک پروگرام (ورلڈ فوڈ پروگرام) کے اندازوں کے مطابق افغانستان میں تقریباً ایک کروڑ ستر لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ سال افغانستان میں غذائی بحران ریکارڈ سطح پر رہا، جبکہ رواں سال مزید 20 لاکھ بچوں کے غذائی قلت میں مبتلا ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ادارے کے مطابق غذائی عدم تحفظ سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔ہشت صبح کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مختلف ممالک سے افغان مہاجرین کی واپسی کے باعث معاشی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے، جس سے غربت اور خوراک کی قلت مزید شدت اختیار کر رہی ہے۔ اخبار کے مطابق بعض پالیسی فیصلوں اور عالمی امداد میں کمی نے بھی حالات کو پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں مزید افراد کے بھوک کا شکار ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔افغانستان میں معاشی سرگرمیوں میں جمود، بے روزگاری میں اضافہ اور امدادی رسائی میں مشکلات کو بھی بحران کے اہم عوامل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر حالات میں بہتری کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والے مہینوں میں انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: افغانستان میں کے مطابق
پڑھیں:
امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں۔
منگل کے روز برینٹ خام تیل 95.04 ڈالر فی بیرل جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) 91.99 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں بینچ مارکس گزشتہ سیشن میں 5 فیصد سے زائد اضافے کے بعد مستحکم رہے۔
سرمایہ کاروں کی توجہ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی پر مرکوز ہے۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں اور جلد کسی معاہدے کی امید ہے تاہم ایرانی میڈیا کے مطابق بات چیت میں تعطل بھی سامنے آیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں موجود اتار چڑھاؤ کا دارومدار امریکا-ایران مذاکرات اور خطے کی صورتحال پر ہے۔ دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جزوی جنگ بندی کو کشیدگی کم کرنے کی محدود کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجی علاقے میں کشیدگی کے باعث تیل اور ایل این جی کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی جس سے قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔