غزہ امن بورڈ فریب ہے مسلم ممالک دور رہیں،تنظیم اسلامی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد (نمائندہ جسارت) مسلم ممالک غزہ امن بورڈ اور بورڈ آف پیس جیسے پرفریب اداروں و نعروں سے دھوکا نہ کھائیں۔ کراچی کے ایک بڑے پلازہ میں بدترین جان لیوا آتش زدگی نے انتظامی مشینری کا پول ایک مرتبہ پھر کھول دیا ہے۔ان خیالات کا اظہار تنظیم اسلامی کے امیرشجاع الدین شیخ نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً چار سال تک غزہ میں مسلسل وحشیانہ بمباری، امداد کی مکمل بندش، ہر معاہدہ توڑنے، بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے اور شدید بارشوں و سردی کو فلسطینی بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کی نسل کشی کے لیے استعمال کرنے والے درندے اب نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار بن کر غزہ میں امن کے منصوبے پیش کر رہے ہیں۔پاکستان سمیت 60 ممالک کو غزہ امن بورڈ نامی ادارے میں فی رکن ایک ارب ڈالر ادائیگی کی شرط پر شمولیت کی دعوت دی جا رہی، جِس کا سربراہ خود امریکی صدر ٹرمپ ہوگا۔ بعض تجزیہ نگاروںکے نزدیک یہ اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں مخالفین کے ویٹو کا توڑ ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو دی گئی دعوت کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ اِس نئی تنظیم میں شامل ہو جا اور ناجائز صہیونی ریاست اسرائیل کے ظلم و ستم کے پہاڑ جو اس نے غزہ پر امریکہ کی خصوصی اور مکمل تعاون سے گرائے، اس کے ابلیسی چہرے کو دھو کر اجلا کرنے کے لیے رقم بھی تم ہی فراہم کرو! انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ اور اس کا نعرہ ریاستِ پاکستان کو کمزور کرنے کے لیے بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ لہذا پاکستان تمام مشکلات کے باوجود دیگر مسلم اور دیگر ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر اِس شر انگیز ادارہ میں شرکت سے انکار کر دے۔ مسلم ممالک آپس کی تلخیاں چھوڑ کر اتحاد پیدا کریں اور اپنی سطح پر ایک فعال اسلامی امن بورڈ قائم کرنے کی طرف بڑھیں تاکہ اسلام دشمن قوتوں کو سیاسی، معاشی اور عسکری لحاظ سے دندان شکن جواب دیا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔