کراچی کو بھی پرائیوٹائز کردیں، ہم خرید کر زیادہ اچھا چلا لیں گے، تابش ہاشمی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
پاکستان کے نامور میزبان وکامیڈین تابش ہاشمی نے سانحہ گل پلازہ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پی آئی اے کی طرح کراچی کو بھی پرائیوٹائز کردیں، یہاں رہنے والے پٹھان، بلوچ، سندھی ، مہاجر، پنجابی سب مل کر شہر خرید لیں گے اور زیادہ اچھا چلالیں گے۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے تابش ہاشمی نے کہا کہ میرا بچپن کراچی میں اسکول سے جامعہ کراچی اور پھر مختلف نوکریاں کرتے ہوئے گزرا، یہاں تک کہ جب میں والد بنا تو میں بھی خریداری کے لیے گل پلازہ ہی گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کا شاید ہی کوئی ایسا گھر ہو جہاں گل پلازہ سے لائی گئی کوئی چیز موجود نہ ہو، بچپن سے لے کر جوانی اور اب جب پکی عمر میں ہیں تو جو ایسوسی ایشنز کراچی میں تھیں وہ ایک ایک کرکے ختم ہورہی ہیں۔
تابش ہاشمی نے کہا کہ لوگوں نے مجھ سے کہا کہ سانحہ گل پلازہ پر ویڈیوز بنائیں لیکن ان باتوں کا بھی اگر مجھے حکومت کو بتانا پڑے تو پھر شاید وہاں جو لوگ بیٹھے ہیں ، ان کا کام نہیں، انہیں تو پہلے سے معلوم ہونا چاہیے، آج یہ باتیں کی جارہی ہیں کہ بلڈنگ میں مسائل تھے تو یہ کام کس کا تھا؟ دنیا بھر میں مقامی حکومتوں کا یہی کام ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے وزیر اعلیٰ سندھ کی پریس کانفرنس سنی جس میں انہوں نے کہا میں جوابدہ ہوں لیکن یہ سب صرف باتوں سے نہیں ہوتا، ان پر عمل کرنا پڑتا ہے اور کروانا پڑتا ہے جب کہ یہ کراچی میں ہونے والا کوئی پہلا واقعہ نہیں، اس سے پہلے بھی درجنوں سانحات ہوچکے ہیں اور مسلسل ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کہتے ہیں کہ وہ جوابدہ ہیں تو مجھے بتایا جائے ’کیا ان کا عہدہ چلا گیا یا ان کی تنخوا کٹی؟ یہاں تک کہ وہ جو متاثر لوگوں کو ہرجانہ دیتے ہیں، وہ بھی اپنی جیب سے ادا نہیں کرتے۔
میئر کراچی کی بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر چیز میں قبول تو کرلیتے ہیں کہ ہماری غلطی ہیں لیکن ساتھ میں کسی چیز کی نشاندہی کردیتے ہیں کہ فلاں چیز ایسی تھی اس لیے ایسا ہوگیا، حالانکہ دنیا میں یہ دستور ہے کہ جب آپ کسی عہدے پر ہوتے ہیں اور مسلسل کوئی واقعات ہورہے ہوتے ہیں تو وہ مستعفی ہوجاتے ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا۔
متحدہ قومی موومنٹ کی بات کرتے ہوئے تابش ہاشمی نے کہا کہ وہ کراچی سے قومی اسمبلی کی 15 سیٹیں اور صوبائی اسمبلی کی تقریباً 75 نشتیں ان کے پاس ہیں، چلیں مان لیتے ہیں کہ عوام کو ان کے مینڈیٹ پر شک ہے لیکن کیا انہیں خود بھی اپنے مینڈیٹ پر شک ہے؟ وہ کیوں باہر نہیں نکل رہے، انہیں کیوں یقین نہیں آرہا ہے کہ وہ کراچی میں اتنے سارے حلقوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
تابش ہاشمی کا کہنا تھا کہ اگر مجھ سے پوچھیں تو میں کہوں گا جیسے حکومت کو احساس ہوا کہ ان سے پی آئی اے نہیں چل پارہا تو انہوں نے وہ پرائیوٹائز کردیا، آپ اسی طرح کراچی کو بھی پرائیوٹائز کردیں، کراچی والے پٹھان، بلوچ، سندھی ، مہاجر ،پنجابی جتنے بھی لوگ ہیں ہم سب مل کر شہر خرید لیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے یقین ہے ہم بہت اچھا شہر چلا لیں گے، اگر اسی طرح چلنا ہے تو کیونکہ ہم اس شہر کو ان سے برا تو نہیں چلا پائیں گے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کا کہنا تھا کہ تابش ہاشمی نے کراچی میں کرتے ہوئے نے کہا کہ گل پلازہ انہوں نے ہیں تو ہیں کہ لیں گے
پڑھیں:
پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔
پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔
پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔
بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔
پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔
اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔
پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔
اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔
پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔