راشد محمود کا ویڈیو پیغام، اپنی بیماری کی تفصیلات بتادیں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اداکار راشد محمود نے ایک ویڈیو پیغام میں اپنی بیماری کی تمام تفصیلات بتادیں اور مداحوں سے صحتیابی کے لیے دعاؤں کی اپیل بھی کردی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو پیغام میں اداکار نے بتایا کہ میں 21 دن سے بستر پر تھا، اس دوران جناح اسپتال سے میرے علاج کا آغاز ہوا اور پھر مختلف ڈاکٹرز کے وزٹ کیے۔
انہوں نے کہا کہ اس دوران متعدد ٹیسٹ بھی کیے گئے، پہلے صرف دل کا مریض تھا اب مہروں کے مرض میں بھی مبتلا ہوگیا ہوں۔
اداکار کا کہنا تھا کہ جناح اسپتال میں علاج کے بعد طبعیت میں بہتری آئی تھی، بستر سے اٹھ کر خود چلنے کے قابل ہوں لیکن ابھی بھی تکلیف میں ہوں لیکن جس طرح پہلے تکلیف کی شدت تھی اس میں کچھ کمی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ سب سے التماس ہے کہ میرے لیے دعا کریں کہ میں مکمل صحتیاب ہو جاؤں تاکہ میری زندگی کا تسلسل برقرار رہے اور میں اپنی مزدوری کرتا رہوں۔
اداکار کا مزید کہنا تھا کہ در حقیقت میں اس ملک کا ایک مزدور ہوں، کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگا، مجھے صرف میرا رب ہی دیتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دعا کریں میں جلد ٹھیک ہوجاؤں تاکہ میں اپنی زندگی کا تسلسل برقرار رکھوں اور کوئی نہ کوئی کام کرتا رہوں کیوں کہ میں کام کرتا ہوں تو میرا گھر چلتا ہے۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کہ میں
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔