بھارتی ریاست منی پور میں ایک بار پھر حالات کشیدہ، ایک نوجوان کا اغوا کے بعد قتل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
پولیس نے بتایا کہ ایم رشی کانت سنگھ کو تُوئبانگ علاقہ میں انکے گھر سے اٹھا لیا گیا تھا اور پھر نٹجانگ گاؤں کے قریب اسے گولی مار دی گئی۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست منی پور میں ایک بار پھر حالات کشیدہ ہوتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ طویل عرصہ سے بدامنی کا شکار منی پور میں اغوا کئے گئے میتیئی سماج کے ایک نوجوان کا گولی مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔ چوراچندپور ضلع میں مشتبہ کوکی شدت پسندوں کی جانب سے نوجوان کو اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد اسے قتل کر دیا گیا۔ حالاکہ مقتول نوجوان کی بیوی کو زندہ چھوڑ دیا گیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ ایم رشی کانت سنگھ کو تُوئبانگ علاقہ میں ان کے گھر سے اٹھا لیا گیا تھا اور پھر نٹجانگ گاؤں کے قریب اسے گولی مار دی گئی۔ مشتبہ اغوا کار یونائٹڈ کوکی نیشنل آرمی (یو این کے اے) کے اراکین بتائے جا رہے ہیں۔ یہ تنظیم سسپنشن آف آپریشنز (ایس او ایس) معاہدے پر دستخط کرنے والے گروپ میں شامل نہیں ہے۔
امن قائم کرنے کے لئے سسپنشن آف آپریشنز معاہدہ مرکزی حکومت، منی پور حکومت اور درجنوں ’کوکی-زو‘ شدت پسند گروہوں کے درمیان کیا گیا تھا۔ مقامی ذرائع کے مطابق میتیئی طبقہ سے تعلق رکھنے واے رشی کانت سنگھ، جو کاکچنگ ضلع کے کاکچنگ خُناؤ کا رہنے والا تھا، نے چوراچندپور کی چنگنو ہاؤکپ سے شادی کی تھی۔ بعد ازاں اس نے ایک قبائلی نام "گِنمن تھانگ" اختیار کر لیا تھا۔ وہ گزشتہ دنوں 19 جنوری کو نیپال سے چوراچندپور واپس لوٹے تھے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ کچھ مقامی گروہوں نے انہیں اپنی کوکی بیوی کے ساتھ رہنے کی اجازت دی تھی۔
قابل ذکر ہے کہ تقریباً ڈھائی سال قبل مئی 2023ء میں منی پور میں تشدد پھیلنے کے بعد کوکی اور میتیئی کے درمیان دشمنی میں کافی اضافہ ہو گیا۔ کوکی اور میتیئی طبقہ کے لوگ ایک دوسرے کے علاقوں میں نہیں جاتے ہیں، جس کے باعث ریاست نسلی بنیاد پر بری طرح بٹ چکی ہے۔ اس تشدد میں 260 سے زیادہ افراد مارے گئے جبکہ ہزاروں لوگ بے گھر بھی ہو گئے ہیں۔ بہرحال تازہ معاملہ سے متعلق پولیس نے بتایا کہ شدت پسندوں نے میاں بیوی دونوں کو اغوا کیا اور انہیں ہینگلیپ پولیس اسٹیشن علاقہ میں نٹجانگ کی طرف لے گئے، جہاں انہیں گولی مارے جانے کا شبہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ شدت پسندوں نے بعد میں بیوی کو چھوڑ دیا۔ از خود نوٹس لیتے ہوئے پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور اغوا و قتل معاملہ میں شامل افراد کو پکڑنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ اس درمیان قتل سے متعلق خوفناک واقعہ کی ایک مبینہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے، جس میں رشی کانت سنگھ مسلح افراد کے ہاتھوں گولی مارے جانے سے پہلے ہاتھ جوڑ کر اپنی جان کی بھیک مانگتے دکھائی دے رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رشی کانت سنگھ نے بتایا کہ منی پور میں پولیس نے گیا تھا
پڑھیں:
پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
اسلام آباد:پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔
وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔
وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔
بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔