گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے سانحہ گل پلازہ کی جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کردیا ہے۔

گورنر ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  سانحہ گل پلازہ کو ایک ہفتہ ہونے والا ہے، لواحقین کی آہیں اور سسکیاں رک نہیں رہی ہیں۔میرے جذبات متاثرین کی فیملیز  کے ساتھ ہیں ۔یہ فیملیز سوال کررہی ہیں کہ ہوا کیا ہے ، کیوں ہوا ہے ، کسی نے روکا کیوں نہیں ۔لوگ پوچھ  رہے ہیں کہ ذمے دار کون ہے۔ وہ ہچکیاں ، مجبور بے بس لوگوں کا رونا کسی احساس رکھنے والے شخص کے لیے صدمے اور موت کا باعث ہونا چاہیے ۔

گورنر سندھ  نے کہا کہ میرے جذبات تھے میں بھی وہاں گیا ۔جب میں نے دیکھا کہ آگ بڑھ رہی تھی ، پھیل رہی تھی دو گھنٹے بعد بارہ پچپن پر میں پہنچا ۔میں اس روڈ سے گیا جہاں بی آر ٹی کا کام چل رہا تھا ۔جب میں وہاں پہنچا تو ڈی آئی جی جنوبی ، ڈی آئی جی ٹریفک کو فون کیا ۔ڈی آئی جی ٹریفک کو بتایا گرومندر پر ٹریفک جام ہے وہ کھلوا دیں ۔میں نے لواحقین کو گلے سے لگایا ۔میں نے وہاں سے نیوی حکام کو فون کیا ۔آرمی ، نیوی ، کے پی ٹی ، رینجرز کو سلام جنھوں نے پہنچ کر 22 جانوں کو ریسکیو کیا ۔کور کمانڈر بھی واقعے کو مانیٹر کررہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ  ان لاشوں کے لواحقین پر مرہم رکھنے کے بجائے سیاسی بیانات دے کر انکے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک ہفتے بعد بھی واقعے پر سیاست ہورہی ہے ۔بلیم گیم ہورہا ہے ، سازشیں ہورہی ہیں ایسا کوئی پلان بنایا جائے کہ کسی پر ملبہ ڈال کر ہم سرخرو ہو جائیں۔ذمے دار اپنے اوپر سے ذمے داری ہٹا کر دوسروں پر ڈال کو بری ہونا چاہتے ہیں ۔کچھ لوگ آگ میں جل کر مر گئے اور کچھ لوگ باہر معاشی طور پر مر گئے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ مجھے ظفر عباس نے بتایا کوئی کام نہیں ہورہا ہے۔ لواحقین خود پہنچ کر اپنے پیاروں کی باقیات جمع کررہے ہیں۔ میں نے نہیں کہا کہ وزیراعلیٰ اور مئیر کیوں نہیں پہنچے ۔میں وہاں سیاست کرنے نہیں گیا تھا ۔شہر مشتعل تھا ، لوگ مشتعل تھے ، زبان قابو میں رکھی ایک ذمے دار شہری ہونے کا ثبوت دیا ۔اگر سیاست کرنا ہوتی تو ہم سے بڑی سیاست کون کرسکتا  ہے ۔اس شہر میں یہ تعین نہیں ہوا کہ انتظامیہ میں سے ذمے دار کون تھا ۔ہائیڈرنٹس کون چلا رہا ہے ، کتنے ان میں سے غیر قانونی ہیں۔



سانحہ گل پلازہ: لاپتا افراد کے اہل خانہ کا صبر کا پیمانہ لبریز، انتظامیہ کیخلاف احتجاج



سانحہ گل پلازہ، ملبے سے مزید باقیات برآمد، جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی

گورنر سندھ نے کہا کہ حل نکالنے کے بجائے سازشیں تیار ہونا شروع ہوگئی ہیں ۔سازشیں کرنی ہیں تو بھائی ہم بھی تیار بیٹھے ہیں ۔تین سالہ ابراہیم گٹر میں گر کر مر جائے اور ہم چپ بیٹھیں ۔ہم بولیں گے تو میسج آئے گا کہ گورنر صاحب آپ نہیں بولیے گا۔ آپ کا اختیار نہیں آپ کی کرسی ہل جائے گی ۔میں کمزور نہیں تمھارے ڈرانے سے دھمکانے سے رک جاؤں گا ۔

میں سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو خط لکھ کر مطالبہ کروں گا کہ اس واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔گورنر سندھ نے کہا کہ اس واقعے کو سیاسی رنگ نہ دیں اب نہیں چلے گا ، یہ کیس بند نہیں ہوگا ۔تاریخ میں لکھا جائے گا۔ وزیراعلیٰ سے کہوں گا کہ انتظامیہ کو رکھیں ۔کیا لوگ اپ کو مس گائیڈ تو نہیں کر رہے ۔کیوں دو گھنٹے تک آگ نہیں بجھ سکیں۔صرف کچھ لوگوں کو ہٹا کر لوگوں کے جذبات ٹھنڈے نہیں ہوں گے۔

گورنر سندھ نے کہا کہ میں چشم دید گواہ ہوں کہ وہاں کیسے کام ہورہا تھا ۔لوگ جل کر مر جائیں ،لوگ ٹرالر کے نیچے آجائیں ، گٹر میں گر کر مر جائیں ہم سیاست کررہے ہیں ۔شرم نہیں آرہی ہے۔گورنر سندھ نے کہا کہ یہ جو چار دن سے ہورہا ہے۔ نہ یہ غلط ہے ۔میرا وہاں پہنچنا بھی کسی کو ہضم  نہیں ہورہا ۔اب کچھ ایسا کریں کہ یہ ملبہ ان سے ہٹے ۔ارے تم سازش کر لو لیکن کیا قدرت ، خدا کی ذات تمھیں چھوڑ دے گی ۔جن اداروں کا یہ کام تھا وہی ادارے اسکے ذمے دار ہیں۔تحقیقات وہاں ہوتی ہے جہاں ذمے داروں کا معلوم نہ ہو ۔یہاں تو سب کو پتہ ہے کہ ذمے دار کون ہے۔

گورنر سندھ نے کہا ریسکیو بروقت کیوں نہیں پہنچی ۔کیوں نہ آگ بجھائی جاسکی۔کیوں دو گھنٹے تک انتظار ہوتا رہا ۔لواحقین مجھ سے کہتے ہیں کہ جوڈیشل انکوائری سے کم پر یہ راضی نہیں۔گورنر سندھ نے کہا کہ جو ضلعی انتظامیہ کے ایم سی ہے وہ کئی سالوں سے سیٹوں پر بیٹھے ہیں ۔کیا اس سے پہلے جتنی آگ لگی ہیں انکی تحقیقات ہوگئی۔ ذمے داروں کا تعین سندھ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کریں ، کمیشن بنائیں جو سیاسی بلیم گیم کر رہے ہیں ان کو بھی اس میں شامل کریں۔

Tagsپاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل گورنر سندھ نے کہا کہ جوڈیشل انکوائری سانحہ گل پلازہ رہے ہیں کیوں نہ کچھ لوگ ہیں کہ

پڑھیں:

سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن


فائل فوٹو 

وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن کا کہنا ہے کہ سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، گریڈ ایک سے 16 تک ملازمین کا سفری الاؤنس بڑھا دیا گیا ہے۔

سندھ کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ  سندھ کابینہ کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، گورنر ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس اسٹاف کی ہیلتھ انشورنس میں چھ ماہ کی توسیع کی ہے، معیشت، سرمایہ کاری، مالیات، آبی وسائل سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں، موسمیاتی تبدیلی اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے متعلق مختلف ٹاسک فورسز تشکیل دی ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ کابینہ نے گٹکا اور مین پوری کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی منظوری دی ہے، گٹکا ماوا کیخلاف کارروائی نارکوٹکس کنٹرول کا محکمہ کرے گا، قانون سازی کر رہے ہیں۔

کراچی آپریشن میں ایسے دہشتگرد سامنے آئے جو کے ایم سی، واٹر بورڈ کے ملازم تھے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ ملازمین عملی کام کے بجائے یونٹ، سیکٹر دفاتر میں بیٹھے رہتے تھے، صحافی ولی خان بابر نے ایسے معاملات کی رپورٹنگ کی تھی بعد میں انھیں قتل کر دیا گیا۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ زراعت کے شعبے کو نقصان نہ ہو، قانون میں گندم کی ترسیل روکنے کی ممانعت ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل روکی ہوئی ہے، پنجاب نے گندم کی ترسیل کیلئے بارڈر سیل کیے ہیں، ہم مذمت کرتے ہیں، گندم کی فصل بہت اچھی ہوئی، سندھ میں کچھ لوگوں نے گندم کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی ہے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت پانچ لاکھ میٹرک ٹن گندم امپورٹ کرے گی، پاسکو سے بھی گندم خریدی جائے گی، ان اقدامات سے گندم ذخیرہ کرنے والوں کو بہت نقصان ہوگا، ناردرن بائی پاس پر 4 سو ایکڑ پر ٹرک اسٹینڈ بنانے جارہے ہیں۔

خالد مقبول، مصطفیٰ کمال کی پریس کانفرنس آئین سے ناواقفیت کی واضح علامت ہے، شرجیل میمن

شرجیل میمن نے کہا کہ افسوس کی بات ہےان دونوں رہنماؤں نے آئین اور قانون کا سنجیدہ مطالعہ نہیں کیا، مطالعہ کرتے تو اس نوعیت کے غیر ذمہ دارانہ بیانات دینے سے گریز کرتے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ مون سون کے موقع پر تمام اداروں کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے، کے پی کے اور پنجاب میں بارشوں سے اموات ہوئی ہیں، حیرت کی بات ہے ہمارے میڈیا نے پر اس پر خاموشی رکھی ہوئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کر بارش سے پنجاب کے دیہی اور شہری علاقوں کے حالات خراب ہیں،  ملک بھر میں بارشوں سے بہت تباہی ہوئی ہے، پنجاب میں بارشوں سے 17 افراد جاں بحق ہوئے، خیبر پختونخوا میں بارشوں سے 20 افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔

شرجیل میمن نے کہا کہ  کشمیر میں انتخابات چل رہے ہیں، کشمیر انتخابات میں مسلم لیگ ن ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن