سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی، 77 تاحال لاپتہ،لواحقین کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
ویب ڈیسک:سانحہ گل پلازہ میں جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی تاہم اب تک صرف 17 افراد کی لاشوں کی شناخت ہوسکی ہے جبکہ 77 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
آتش زدہ گل پلازہ کے باہر کئی روز سے کھڑے لواحقین نے احتجاج کرتے ہوئے ریسکیو اور تحقیقاتی عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا، متاثرین کا کہنا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کو 6 روز ہوگئے مگر تاحال لاپتہ افراد کو تلاش نہیں جاسکا۔
مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی
مخدوش عمارت گرنے کے خدشے کے باعث مشینری سے ملبہ ہٹانے کا کام عارضی طور پر روک دیا گیا۔
عمارت گرنے والے حصوں میں لاپتہ افراد کی تلاش چیلنج بن گئی تاہم ریسکیو اہلکاروں کی جانب سے ملبے تلے لاپتہ افراد کو ڈھونڈنے کی کوشش جاری ہیں۔
یاد رہے کہ گل پلازہ میں آگ ہفتے کی شب لگی تھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے پلازہ کو راکھ میں تبدیل کردیا۔
سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے تحقیقاتی حکام نے عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات کی مدد سے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی۔
بنگلہ دیش ٹی 20ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا یا نہیں ؟
تحقیقاتی ذرائع کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں لگی، گل پلازہ میں آگ مصنوعی پھولوں کی دکان میں بچوں کے کھیلنے کے دوران لگی۔
ذرائع نے بتایا کہ ممکنہ طور پر بچے دکان میں ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے، ابتدائی طور پر آگ دکان میں موجود سامان میں لگی جس کے بعد یہ بجلی کی تاروں میں پھیل گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سانحہ گل پلازہ گل پلازہ میں افراد کی
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔