گل پلازا واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
ڈپٹی کمشنر ضلع جنوبی جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ گل پلازا واقعے میں جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی، ریکوری اینڈ سرچ آپریشن جاری ہے۔
گل پلازا میں ملبے تلے لاپتا افراد کو ڈھونڈنے کے لیے آپریشن جاری ہے، مشینری کے ذریعے ملبہ ہٹانے کا کام عارضی طور پر روک دیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو کا کہنا ہے کہ مشینری کے استعمال سے عمارت کے گرنے کا خدشہ ہے، ملبے کے باعث عمارت کے گرنے والے حصوں میں سرچنگ نہیں کی جا سکتی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گارڈن کے رہائشی سرفراز کی شناخت ہوگئی، میٹروویل کے رہائشی محمد عثمان کی شناخت ہوگئی، گوجرانوالہ کے رہائشی محمد رضوان کی بھی شناخت ہوگئی۔
گل پلازا میں 88 لاپتا افراد میں سے 60 افراد کی لاشیں یا باقیات مل چکی ہیں۔
ایم اے جناح روڈ پر سانحہ گل پلازا کے متاثرین نے احتجاج کرتے ہوئے ریسکیو اور تحقیقاتی عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کیا اور عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
پولیس اور رینجرز نے خواتین کو عمارت کے اندر جانے سے روک دیا، لواحقین نے اپیل کی کہ ان کے بچوں کو تلاش کیا جائے۔
دوسری جانب تحقیقاتی حکام نے عینی شاہدین اور متاثرین کے بیانات کی مدد سے سانحے سے متعلق رپورٹ تیار کرلی۔
تاجر رہنما کا کہنا ہے کہ فی اسکوائر فٹ مینٹیننس 245 روپے مقرر تھی، اتنی بھاری رقم کے باوجود انتظامات نہ ہونے پر مارکیٹ ایسوسی ایشن جواب دے۔
تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ آگ مصنوعی پھولوں کی دکان میں بچوں کے کھیلنے کے دوران لگی، ممکنہ طور پر بچے دکان میں ماچس یا لائٹر سے کھیل رہے تھے، ابتدائی طور پر آگ دکان میں موجود سامان میں لگی اور بجلی کی تاروں میں پھیلی۔
آگ لگتے ہی عمارت میں موجود افراد خارجی راستوں کی طرف بھاگے، دروازے بند ہونے کی وجہ سے بھگدڑ مچی، عمارت میں بیشتر دکانیں کھلی ہوئی تھیں، عمارت کی چھت کے راستے پر بھی گرل لگی ہوئی تھی، آگ لگنے سے عمارت میں موجود سی سی ٹی وی سسٹم مکمل طور پر متاثر ہوا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ گل پلازا
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.