مصطفی کمال کی ہر بات کا منہ توڑ جواب ہے،شرجیل میمن
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
لوگوں کو بھتے کے چکر میں جلانے والے کراچی کو وفاق کے حوالے کرنیکی باتیں کر رہے
کیا 18ویں ترمیم ختم کرنے سے گل پلازہ جیسے واقعات رونما نہیں ہوں گے؟ پریس کانفرنس
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہاہے کہ کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے کے چکر میں لوگوں کو زندہ جلایا۔ اٹھارویں ترمیم کے خلاف خواجہ آصف اور مصطفی کمال کے بیانات پر سوال کے جواب میں کہا کہ اگر مخالفت ہے تو اسمبلی میں جائیں، ٹی وی پر ڈھنڈورا پیٹنے کا فائدہ نہیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ آج ایک صاحب کی پریس کانفرنس سنی کہ 18ویں ترمیم خراب ہے لہٰذا کراچی کو وفاق کے حوالے کیا جائے، تو کیا اس سے ایسے واقعات رونما نہیں ہوں گے۔ یہ باتیں وہ لوگ کر رہے ہیں جنہوں نے بھتے کے چکر میں اپنے ہاتھوں سے لوگوں کو جلایا ہے۔مصطفی کمال کی پریس کانفرس پر انہوں نے کہا کہ میں آپ کو جواب آپ کی باتوں سے دوں گا، بلدیہ فیکٹری کو بھتے کے چکر میں آگ لگائی گئی، 12 مئی کو انسانوں کا شکار کیا گیا اور معصوم جانیں لیں، آپ کے منہ سے ایسی باتیں اچھی نہیں لگتی۔شرجیل میمن نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق عاشورہ کے بعد بولٹن مارکیٹ میں جو آگ لگائی گئی آپ نے ان کا کاروبار چھینا، گل پلازہ کے لواحقین اپنے پیاروں کی تلاش میں ہیں اور آپ کیا بات کر رہے ہیں۔ میں آپ کو ان کی ریکارڈنگ سناتا ہوں۔سینیئر وزیر نے کہا آپ نے سنا کہ مصطفی کمال نے اپنے قائد خالد مقبول کے بارے میں کیا کہا، انہوں نے اتحادی حکومت کے قائدین کو کیا کیا کہا وہ سب کے سامنے ہے، جب یہ کراچی کے میئر تھے ان کے لوگوں کے ساتھ رویے کیا تھے۔شرجیل میمن نے کہا کہ آج جو باتیں انہوں نے کیں ان باتوں کا منہ توڑ جواب میرے پاس ہے لیکن ہم سیاسی بیان بازی میں جانا نہیں چاہتے، ہم لواحقین کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ صاحب خود کو کراچی کا دعوے دار کہتا ہے اور وفاقی وزیر صحت ہے، کیا یہ ابھی تک جائے وقوع پر پہنچے؟ کیا انہوں نے اس حوالے سے کسی سے رابطہ کیا؟ ایم کیو ایم کی اصلیت سب کے سامنے ہے، یہ اسکور کی طرح گن گن کر لوگ مارتے تھے۔شرجیل میمن نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کو افسوسناک اور دردناک سمجھتے ہیں، قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں اس پر ہر آنکھ اشکبار ہے، ہر پاکستانی اس پر افسردہ و غمزدہ ہے، کسی انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہو سکتی۔ اس سانحے کے بعد ون پوائنٹ ایجنڈہ پر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لاشوں کو ملبے سے نکال کر لواحقین کے حوالے کیا جائے گا، لاشوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور ڈی این اے کی جانچ کی جا رہی ہے۔ سانحے میں 86افراد لاپتا تھے جن میں سے دو کا پتہ چل گیا تھا اور وہ اسپتال میں تھے، باقی لوگوں کی تلاش کا عمل بھی جاری ہے۔شرجیل میمن نے کہا کہ وزیر اعلی نے متعلقہ لوگوں سے ملاقات کی اور یقین دہانی کروائی کہ حکومت اکیلا نہیں چھوڑے گی، ماضی میں عاشورہ کے بعد جو مارکیٹ جلائی گئی ان کے متاثرین کی بھی مدد کی تھی، ٹمبر مارکیٹ کے متاثرین کی بھی مدد کی تھی، حکومت اب بھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔انہوں نے کہا کہ ایک رپورٹ جنوری 2024 میں بنائی گئی تھی، وہ رپورٹ کمشنر کراچی کو ملی اور انہوں نے ڈی سی کو بھیجی کہ آڈٹ کریں، اب تحقیقات ہو رہی ہیں جس سے معلوم ہو جائے گا کہ گل پلازہ کو نوٹس ملا تھا یا نہیں اور اس وقت نگراں حکومت تھی۔ اب تحقیقات ہو رہی ہیں جس میں تمام حقیقت سامنے آجائے گی، کہیں کوئی کوتاہی ہے تو حکومت ایکشن لے گی۔شرجیل میمن نے کہا کہ تاجروں سے ملاقات ہوئی اور ان سے آئندہ کے لائحہ عمل پر بات ہوئی، انہوں نے کہا کہ باقی عمارتوں میں فائر سیفٹی اقدامات پر عمل کروایا جائے۔ میرے اندازے سے پورے پاکستان میں 90 فیصد عمارتیں ایسی ہوں گی جہاں فائر ایگزٹ نہیں ہوگا اور نا آلات ہوں گے، البتہ نئی بننے والی عمارتوں میں ایس او پیز پر عمل کروایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم متاثرہ دکانداروں کے لیے بلا سود قرض کا منصوبہ بھی سوچ رہے ہیں اور کچھ جماعتیں اس ایشو پر بھی سیاست کر رہی ہیں۔ اس پر سیاست کرنا اور وہاں انتشار کروانا، اس پر پیڈ مہم چلانا غلط ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: شرجیل میمن نے کہا کہ انہوں نے کہا کہ مصطفی کمال کر رہے ہیں گل پلازہ کے حوالے کراچی کو نہیں ہو
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔