بورڈ آف پیس میں شمولیت کیلئے پہلے ایوان میں قرارداد لانا ضروری ہے، شہباز شریف نے بغیر سوچے سمجھے اس کوکیسے قبول کر لیا،کیا حماس کو غیر مسلح کرنے کیلئے ہماری فورسز جائیں گی ،بیرسٹر گوہر

اپوزیشن جماعتوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تشکیل کردہ غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت کی مخالفت کرتے ہوئے امن بورڈ معائدے کی شرائط پبلک کرنے اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کردیا۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیٔرمین بیرسڑ گوہر نے کہا کہ فلسطین اور غزہ ہمارے لیے بہت اہم ہے، فلسطین پر ہمارا مؤقف رہا ہے کہ ہر وہ حل ہمیں قبول ہوگا جو مسلم دنیا کو قبول ہوگا۔انہوں نے کہا کہ غزہ میں ایک لاکھ کے قریب لوگ شہید ہوئے، غزہ میں لاکھوں لوگ زخمی ہوئے ہیں، اب بورڈ آف پیس کا ایشو سامنے آیا ہے۔چیٔرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بغیر سوچے سمجھے اس کو قبول کر لیا، گزشتہ روز ایک پریس ریلیز آئی جس میں اس پیس آف بورڈ کو قبول کرنے کا بتایا گیا، ابھی تک پارلیمان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہمیں بتائیں کہ بورڈ آف پیس کو کن شرائط پر قبول کیا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے ہماری فورسز جائیں گی۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی باڈی نہیں ہے یہ ادارہ علیحدہ سے تشکیل پا رہا ہے اقوام متحدہ کے تحت ہوتا تو حکومت خود فیصلہ کر سکتی تھی اس معاملے پر پہلے ایوان میں قرارداد لانا ضروری ہے۔وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا کہ بورڈ آف پیس کا حصہ بننے کا معاملہ تمام پاکستانیوں کا معاملہ ہے، فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ پوری دنیا میں زیر بحث ہے کچھ معاملات سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بورڈ آف پیس اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت غزہ کی تعمیر نو کرے گا، ایوان میں یہ بات آئے گی اور یک جہتی کا پیغام جانا چاہیے۔حکومتی رکن نے کہا کہ ہمیں نے امت مسلمہ اور قومی مفاد کے تحت فیصلے کرنے ہوتے ہیں، پاکستان نے کشمیر اور فلسطین کے اوپر ہمیشہ آواز بلند کی، غزہ کی تعمیر نو اور مستقل فائر بندی کی وجہ سے پاکستان نے بورڈ آف پیس میں جانے کا فیصلہ کیا اور اس بات پر ہمیں اتفاق رائے کے ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: کہ بورڈ ا ف پیس

پڑھیں:

پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم

روم:   پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم