پولیس نے ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)انسانی حقوق کےلیے سرگرم وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو اب سے کچھ دیر قبل پولیس نے گرفتار کر لیا ۔
تفصیلات کے مطابق ایمان مزاری کو سرینہ چوک انڈر پاس کے قریب گاڑی رکوا کر گرفتار کیا گیا۔
واضح رہے کہ ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان کیا تھا، میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مؤقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں، مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، چاہے جیل ہی جانا پڑے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ہمیشہ آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی ہے اور کسی بھی کام پر ندامت یا پچھتاوا نہیں ہے۔
سانحہ گل پلازہ، ملبے سے مزید باقیات برآمد، جاں بحق افراد کی تعداد 67 ہوگئی
دوسری جانب ہادی علی چٹھہ نے بتایا کہ انہوں نے خود کو بار کونسل اور بار ایسوسی ایشنز کے لیڈران کے سامنے سرینڈر کر دیا ہے۔ ہم ان کے پاس موجود ہیں اور ان کے پاس ہی رہیں گے۔ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ جس نے غیر قانونی طور پر گرفتار کرنا ہے، وہ انہیں یہاں ہی گرفتار کر سکتا ہے۔
یاد رہے کہ متنازع ٹوئٹ کیس میں اسلام آبادہائیکورٹ کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں ٹرائل کورٹ کا آرڈر کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری،ہادی علی چٹھہ کو موجودہ کیس میں گرفتار نہ کیا جائے۔
فیصلے کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کوگواہوں پرجرح کیلئے 4دن کا وقت دیا جاتا ہے۔ اگر ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہ ہوئے تو یہ آرڈر ختم تصور ہو گا۔
بالائی علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج، سڑکیں بند، سیاح محصور، 2 افراد جاں بحق
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: ہادی علی چٹھہ کو ایمان مزاری اور گرفتار کر
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔