صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر فوجی آپریشنز مسلط کیے جا رہے ہیں، وزیراعلیٰ
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت اور اسمبلی کی اجازت کے بغیر خیبر پختونخوا میں ملٹری آپریشنز مسلط کیے جارہے ہیں اور وفاق متاثرین کی اعلان کردہ مالی تعاون بھی نہیں کر رہا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت عمران خان اور بشریٰ بی بی کو تنہائی میں رکھنے اور ملاقاتوں سے روکنے کی شدید مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو 90 دن سے زائد تنہائی میں رکھا جا رہا ہے، فیملی اور دوستوں سے ملاقات نہیں کروائی جا رہی ہے، بشریٰ بی بی کو بھی تنہائی میں رکھا گیا ہے اور ان کی فیملی سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سردی کا سامان فراہم نہ کرنا ظلم ہے، جعلی حکومت آمریت کے تمام ریکارڈ توڑ رہی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ امتیازی اور سوتیلی ماں جیسا سلوک ہو رہا ہے، ایکشن ان ایڈ آف سول پاور واپس لینے کا فیصلہ ہو چکا ہے، وفاق کی جانب سے دہشت گردوں کی حراستی مراکز کی تفصیلات نہ ملنے کے باعث واپس لینے کے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد قیدیوں کی تفصیلات نہ ملنے پر ایکشن ان ایڈ آف سول پاور واپسی سے سیکیورٹی خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ وفاق کی جانب سے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت سیاسی جماعتوں کو کالعدم قرار دینا غلط ہے اور شیڈول فور میں شامل سیاسی کارکنان کی فہرست ری وزٹ کر کے ریلیف دینے کی ہدایت کردی۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق کی جانب سے نادرن بائی پاس منصوبہ 2010 سے تاخیر کا شکار ہے، لاگت 3 ارب سے 31 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے، صوبائی حکومت نے 5 ارب روپے دے کر منصوبہ تیز کیا۔
انہوں نے کہا کہ 8 فروری انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے صوبائی اسمبلی میں اسپیشل کمیٹی قائم کر رہے ہیں، صوبائی ملازمین کو طلب کر کے انتخابی دھاندلی پر پوچھ گچھ کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز ہمارے محافظ ہیں، گلہ اپنوں سے ہوتا ہے، ایک طرف سے دہشت گرد مارتے ہیں تو دوسری طرف سے کولیٹرل ڈیمیج میں سویلین شہادتیں ہوتی ہیں، ڈرون اور فضائی حملوں میں شہریوں کی شہادتوں پر قانون سازی کی ضرورت ہے۔ سہیل آفریدی نے کہا کہ وفاق ٹی ڈی پیز کے لیے وعدہ شدہ فنڈز نہیں دے رہا، صوبائی حکومت اب تک 7.
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بند کمروں کے فیصلوں سے جی ڈی پی 6.1 فیصد سے 3-2 فیصد تک گر گئی ہے، قرضے 43 ہزار ارب سے بڑھ کر 80 ہزار ارب روپے ہو گئے ہیں، بے روزگاری اور مہنگائی کے باعث نوجوان ملک چھوڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں ملٹری آپریشنز صوبائی اسمبلی اور صوبائی حکومت کی اجازت کے بغیر مسلط کیے جا رہے ہیں، تمام اسٹیک ہولڈرز، قبائلی مشران اور سیاسی و مذہبی قیادت کو بٹھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ 22 بڑے آپریشنز اور 14 ہزار انٹیلیجنس آپریشنز کے باوجود دہشت گردی ختم نہیں ہوئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریڈیو پاکستان واقعہ پی ٹی آئی کے خلاف سازش تھا، ریڈیو پاکستان واقعے کی تحقیقات کے لیے صوبائی اسمبلی کی اسپیشل کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس کا ایک اجلاس ہو چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا صوبائی حکومت تنہائی میں کی اجازت ارب روپے بی بی کو رہے ہیں رہا ہے
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا