وادی تیراہ: برفباری میں پھنسے افراد کو ریسکیو کیا جا رہا ہے، وزیراعلیٰ
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ضلع خیبر کی وادی تیراہ میں بہت زیاہ برفباری ہوئی ہے، وہاں کئی افراد پھنسے ہوئے ہیں جنھیں ریسکیو کیا جا رہا ہے۔
جیو نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ وہ وادی تیراہ میں ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔
انھوں نے کہا ہے کہ امدادی کارروائیوں میں دشواری کا سامنا ہے، بھاری مشنیری کے ذریعے سڑک صاف کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ خوراک اور دیگر امدادی سامان پر مشتمل ٹرک تیراہ روانہ کر دیے گئے ہیں۔
چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ تیراہ میں برف باری کے باعث پھنسے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے،
انہوں نے بتایا کہ تیراہ روڈ پر چار فٹ برف باری ہوئی ہے، پاک فوج، ریسکیو 1122 سمیت دیگر امدادی ادارے ریسکیو آپریشن میں حصہ لے رہے ہیں۔
چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کا کہنا ہے کہ تیراہ روڈ سے بھاری مشینری کے ذریعے برف ہٹائی جا رہی ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔