سعودی ایجنسی کنگ سلمان ریلیف کا 2026 کے لیے انسانی اور امدادی منصوبے کا آغاز، ڈونرز اور شراکت داروں کو خراج تحسین
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
سعودی عرب کی انسانی اور امدادی ایجنسی کنگ سلمان ریلیف KSrelief نے بدھ کے روز 2026 کے انسانی اور امدادی منصوبے کا آغاز کیا اور اپنے بڑے ڈونرز اور شراکت داروں کو اعزازی تقریب میں خراج تحسین پیش کیا۔
ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ، مشیر شاہی محکمہ اور KSrelief کے سپروائزر جنرل، نے سعودی عرب کی عالمی سطح پر انسانی امداد کی کوششوں کو اجاگر کیا اور بادشاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کے تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی مالیاتی ٹریکنگ سروس کے مطابق 2025 میں سعودی عرب دنیا میں دوسرے اور عرب دنیا میں پہلے نمبر پر رہا۔
مزید پڑھیں: کنگ سلمان ریلیف سینٹر کا خیبر پختونخوا میں ونٹر کِٹس کی تقسیم کا آغاز
2026 کے منصوبے کے تحت KSrelief 44 ممالک میں 113 انسانی اور عملی منصوبے نافذ کرے گا، جن میں 11 سعودی غیر منافع بخش اداروں کے ساتھ شراکت کی جائے گی، جس سے 12 ملین سے زائد افراد مستفید ہوں گے، اور اس کا تخمینی خرچ 400 ملین ریال ہے۔ اسی طرح، رضاکارانہ پروگراموں میں 42 ممالک میں 309 پروگرام شامل ہیں، جن کا خرچ 200 ملین ریال ہوگا۔
تقریب میں 2 مقدس مساجد کے خادم کی جانب سے 2026 کے لیے کھجوروں کا تحفہ بھی پیش کیا گیا، جو 73 ممالک میں 13 ملین سے زائد افراد تک پہنچایا جائے گا، جس کا مجموعی وزن 17,868 ٹن اور خرچ 123 ملین ریال ہے۔
اس موقع پر مقامی تنظیموں کے ساتھ میثاقِ تفاهم (MoU) بھی دستخط کیے گئے تاکہ تعاون مضبوط کیا جا سکے، پائیداری کو فروغ دیا جائے، اور دنیا بھر میں کمزور اور مستحق کمیونٹی تک امداد کی فراہمی کی افادیت بڑھائی جا سکے۔
مزید پڑھیں: کنگ سلمان ریلیف کا پاکستان میں پولٹری پر مبنی معاشی خودمختاری منصوبے کا دوسرا مرحلہ مکمل
سعودی عرب کے ڈپٹی وزیر خارجہ، ولید الخریجی نے کہا کہ سعودی عرب انسانی امور میں عالمی قیادت کے عزم پر قائم ہے اور 173 ممالک کو 537 ارب ریال سے زائد امداد فراہم کر چکا ہے، جبکہ 2025 میں امدادی کوششیں 2 ارب امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سعودی ایجنسی کنگ سلمان ریلیف کنگ سلمان ریلیف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سعودی ایجنسی کنگ سلمان ریلیف کنگ سلمان ریلیف کنگ سلمان ریلیف انسانی اور
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘