بین المذاہب کانفرنس "حسینؑ سب کا" 24 جنوری کو ایوانِ اقبال میں منعقد ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
پروگرام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ سید جواد نقوی کا کہنا تھا کہ امام حسینؑ کسی ایک مسلک یا طبقے تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے عدل، آزادی اور وقار کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظلم و جبر کے ذریعے قائم ہونے والا اقتدار اطاعت کا حق دار نہیں ہوتا اور امام حسینؑ کا قیام اسی فکری انحراف کے خلاف ایک واضح اور دائمی پیغام ہے۔ تحریکِ بیداریِ امتِ مصطفیٰ کے زیرِاہتمام بین المذاہب کانفرنس "حسین سب کا" 24 جنوری کو دن ڈیڑھ بجے ایوانِ اقبال لاہور میں منعقد ہوگی جس کی صدارت علامہ سید جواد نقوی کریں گے۔ کانفرنس میں مختلف مذاہب اور مکاتبِ فکر کی ممتاز شخصیات شرکت کریں گی۔ پروگرام کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ سید جواد نقوی کا کہنا تھا کہ امام حسینؑ کسی ایک مسلک یا طبقے تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے عدل، آزادی اور وقار کی علامت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظلم و جبر کے ذریعے قائم ہونے والا اقتدار اطاعت کا حق دار نہیں ہوتا اور امام حسینؑ کا قیام اسی فکری انحراف کیخلاف ایک واضح اور دائمی پیغام ہے۔ کانفرنس کا مقصد اس حقیقت کو اجاگر کرنا ہے کہ ہر مذہب اور مکتبِ فکر میں ظلم، جبر اور ناانصافی کے خلاف قیام کو ایک بنیادی انسانی اور اخلاقی قدر قرار دیا گیا ہے، اور امام حسینؑ کا پیغام اسی مشترکہ انسانی اصول کی عملی اور آفاقی مثال ہے، جس کے ذریعے معاشرے میں عدل، حق گوئی اور انسانیت کے احترام کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔