ٹیکنالوجی کے ذریعے موسم کو کنٹرول کرنا، کتنا فائدہ مند کتنا نقصان دہ؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
ٹیکنالوجی کے ذریعے موسم کو کنٹرول کرنا ایک انتہائی حساس موضوع ہے۔ ٹیکنالجی کے ذریعے موسموں کا انتظام کرنے کو سائنسی اسطلاح میں جیو انجینیئرنگ یا Weather Modification کہتے ہیں۔
ٹیکنالوجی کی اس حیرت انگیز ترقی کے ماہرین نے جہاں فائدے گنوائے ہیں وہیں اس کے سنگین نقصان و خطرات سے بھی آگاہ کیا ہے۔
درج ذیل اس کے نقصان و فوائد تحریر کیے گئے ہیں۔
ممکنہ فائدے
بارش پیدا کرنا: خشک سالی والے علاقوں میں بارش کا امکان بڑھایا جا سکتا ہے جو زراعت اور پانی کے ذخائر کے لیے مددگار ہے۔ بعض ممالک جیسے چین، متحدہ عرب امارات اس پر تجربات کر چکے ہیں۔
درجہ حرارت میں کمی: سورج کی تپش کو روکنے کے منصوبے کو کامیاب بنایا جاسکتا ہے اور گلوبل وارمنگ کے اثرات عارضی طور پر کم ہو سکتے ہیں۔
قدرتی آفات کی شدت کم کرنا: طوفان، ہیٹ ویوز یا ژالہ باری کے اثرات محدود کرنے کی کوشش کرکے شہروں اور فصلوں کو نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔
ممکنہ نقصانات
غیر متوقع نتائج:
اس ٹیکنالوجی کے ذریعے اگر ایک جگہ بارش برسائی جائے گی تو دوسری جگہ خشک سالی کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ موسمی نظام بہت پیچیدہ ہے، چھوٹی مداخلت بڑے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
اخلاقی اور سیاسی مسائل:
ایک اور بڑا مسئلہ جو پیدا ہوگا وہ یہ کون فیصلہ کرے کہ کہاں بارش ہو؟۔ اس سے سرحد پار اثرات یعنی بین الاقوامی تنازعات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
قدرتی توازن میں خلل:
ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ جنگلی حیات اور سمندری نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں سب سے بنیادی مسئلہ بلکہ مسائل کی جڑ یعنی کاربن اخراج اور آلودگی موسم کو کنٹرول کرنے سے حل نہیں ہوتا۔ حکومتیں اپنی ماحولیاتی ذمہ داری سے بچنے لگیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ