ٹیکنالوجی کے ذریعے موسم کو کنٹرول کرنا ایک انتہائی حساس موضوع ہے۔ ٹیکنالجی کے ذریعے موسموں کا انتظام کرنے کو سائنسی اسطلاح میں جیو انجینیئرنگ یا Weather Modification کہتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کی اس حیرت انگیز ترقی کے ماہرین نے جہاں فائدے گنوائے ہیں وہیں اس کے سنگین نقصان و خطرات سے بھی آگاہ کیا ہے۔

درج ذیل اس کے نقصان و فوائد تحریر کیے گئے ہیں۔

ممکنہ فائدے

بارش پیدا کرنا: خشک سالی والے علاقوں میں بارش کا امکان بڑھایا جا سکتا ہے جو زراعت اور پانی کے ذخائر کے لیے مددگار ہے۔ بعض ممالک جیسے چین، متحدہ عرب امارات اس پر تجربات کر چکے ہیں۔

درجہ حرارت میں کمی: سورج کی تپش کو روکنے کے منصوبے کو کامیاب بنایا جاسکتا ہے اور گلوبل وارمنگ کے اثرات عارضی طور پر کم ہو سکتے ہیں۔

قدرتی آفات کی شدت کم کرنا: طوفان، ہیٹ ویوز یا ژالہ باری کے اثرات محدود کرنے کی کوشش کرکے شہروں اور فصلوں کو نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔

ممکنہ نقصانات

غیر متوقع نتائج:

اس ٹیکنالوجی کے ذریعے اگر ایک جگہ بارش برسائی جائے گی تو دوسری جگہ خشک سالی کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔ موسمی نظام بہت پیچیدہ ہے، چھوٹی مداخلت بڑے مسائل پیدا کر سکتی ہے۔

اخلاقی اور سیاسی مسائل:

ایک اور بڑا مسئلہ جو پیدا ہوگا وہ یہ کون فیصلہ کرے کہ کہاں بارش ہو؟۔ اس سے سرحد پار اثرات یعنی بین الاقوامی تنازعات کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

قدرتی توازن میں خلل:

ماحولیاتی نظام متاثر ہو سکتا ہے۔ جنگلی حیات اور سمندری نظام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں سب سے بنیادی مسئلہ بلکہ مسائل کی جڑ یعنی کاربن اخراج اور آلودگی موسم کو کنٹرول کرنے سے حل نہیں ہوتا۔ حکومتیں اپنی ماحولیاتی ذمہ داری سے بچنے لگیں گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے ذریعے سکتا ہے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن