ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ سرینا چوک اسلام آباد سے گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) انسانی حقوق کیلئے سرگرم وکیل، سابق پی ٹی آئی رہنما شیریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو گرفتار کر لیا گیا۔
ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی چٹھہ اسلام آباد ہائیکورٹ سے ڈسٹرکٹ کورٹ جا رہے تھے کہ سرینا چوک کے قریب گاڑی رکوا کر گرفتار کیا گیا۔
اس موقع پر وکلاء کی بڑی تعداد ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے ہمراہ تھی۔
واضح رہے کہ ایمان مزاری اور اُن کے شوہر ہادی علی چٹھہ نے اپنے مؤقف سے پیچھے نہ ہٹنے کا اعلان کیا تھا، میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مؤقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں، مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، چاہے جیل ہی جانا پڑے۔
یاد رہے اس سے قبل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا بھی حکم دیا تھا۔
یاد رہے کہ متنازع ٹوئٹ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے جاری تحریری فیصلے میں ٹرائل کورٹ کا آرڈر کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو موجودہ کیس میں گرفتار نہ کیا جائے۔
فیصلے کے مطابق ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کو گواہوں پر جرح کیلئے 4 دن کا وقت دیا جاتا ہے۔ اگر ٹرائل کورٹ کے سامنے پیش نہ ہوئے تو یہ آرڈر ختم تصور ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ ہادی علی چٹھہ کو
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک