پاکستان کی معروف نیوز کاسٹرعشرت فاطمہ نے لگ بھگ ایک عشرے بعد پی ٹی وی دوبارہ جوائن کرلیا ہے۔

گزشتہ شب انہوں نے نیوز چینل پر ایک مرتبہ پھر خبریں پڑھیں، جہاں بلیٹن کے آغاز پر ساتھی نیوز اینکر نے انہوں بطور مینٹور خوش آمدید کہا۔

یہ بھی پڑھیں: معروف نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ نے پی ٹی وی کے بعد ریڈیو پاکستان کو الوداع کہہ دیا، سوشل میڈیا پر خصوصی پیغام

عشرت فاطمہ کی واپسی ایک ایسے پس منظر میں سامنے آئی جب وہ رواں سال 14 جنوری کو ریڈیو پاکستان سے علیحدگی اختیار کرچکی تھیں۔

سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو بیان میں انہوں نے ادارے میں مناسب جگہ نہ ملنے اور بعض منفی رویوں پر شدید دکھ اور تکلیف کا اظہار کیا تھا۔

بہت شکریہ تارڑ صاحب آپ سے اسی بات کی توقع تھی۔۔لیجنڈز کی حوصلہ افزائی انکا حق ہے اور ہمارا فرض۔@TararAttaullah @OfficialIshrat
وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ معروف نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ کے گھر گئے اور انکی خدمت پر انکا شکریہ ادا کیا۔۔انہیں پی ٹی وی میں انہیں مینٹور کے طور خدمات کی… pic.

twitter.com/b7QPU4ZMmT

— Sanaullah Khan (@SanaullahDawn) January 15, 2026

ان کا کہنا تھا کہ طویل انتظار کے باوجود حالات بہتر نہ ہوئے اور بار بار یہ احساس دلایا گیا کہ ان کی خدمات کی ضرورت نہیں۔

جس کے بعد انہوں نے بھاری دل کے ساتھ ریڈیو پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

مزید پڑھیں: وفاقی وزیر اطلاعات کی عشرت فاطمہ کے گھر آمد، پی ٹی وی میں بطور مینٹور شمولیت کی پیشکش

اس وقت عشرت فاطمہ نے یہ بھی کہا تھا کہ خبریں پڑھنا ان کا عشق اور جنون ہے اور ادارے ہی افراد کو شناخت اور مقام دیتے ہیں۔

تاہم ان کے بقول جب کسی سے پیشہ ورانہ مقابلہ ممکن نہ رہے تو بعض اوقات منفی طریقے اختیار کر لیے جاتے ہیں، جو ایک براڈ کاسٹر کے لیے اذیت کا باعث بنتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا تھا کہ ان کے نزدیک مالی مفاد کبھی ترجیح نہیں رہا بلکہ معیاری اور دیانتدارانہ انداز میں کام کرنا ہی ان کا اصل مقصد رہا ہے۔

مزید پڑھیں: معروف نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ نے ریڈیو پاکستان چھوڑنے کی اصل وجہ بتادی

بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے عشرت فاطمہ کی نشریاتی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں پاکستان کی براڈکاسٹنگ تاریخ کی ایک معتبر اور قابلِ فخر شناخت قرار دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ عشرت فاطمہ کا تقریباً 45 سالہ شاندار کیریئر پیشہ ورانہ دیانتداری، مہارت اور قومی خدمت کی روشن مثال ہے، اور ملک کے تمام طبقات انہیں جانتے اور پہچانتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ اگرچہ عشرت فاطمہ ایک دہائی قبل پی ٹی وی اور حال ہی میں ریڈیو پاکستان سے علیحدہ ہوئیں، تاہم اب ان سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ پاکستان ٹیلی ویژن میں بطور مینٹور نئی نسل کے نیوز کاسٹرز کی تربیت کریں۔

مزید پڑھیں: پی ٹی وی کی معروف نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ کے انتقال کی افواہیں، اینکر نے خود وضاحت کردی

ان کے مطابق عشرت فاطمہ اردو زبان کے درست تلفظ، دباؤ اور ہنگامی حالات میں خبروں کی پیشکش، خصوصاً قدرتی آفات کے دوران نشریاتی ذمہ داریوں سے متعلق قیمتی تجربہ رکھتی ہیں، جو نوجوان اینکرز کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوسکتا ہے۔

عطا اللہ تارڑ نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ عشرت فاطمہ کا کبھی سیاست سے کوئی تعلق یا سیاسی جھکاؤ نہیں رہا اور انہوں نے ہمیشہ پیشہ ورانہ اصولوں کے تحت خدمات انجام دی ہیں۔

ان کی واپسی کو انہوں نے نوجوان براڈ کاسٹرز کے حوصلے بلند کرنے کا سبب قرار دیا تھا۔

مزید پڑھیں: عشرت فاطمہ کو پاکستانی نیوز انڈسٹری سے کیا شکوہ ہے؟

اس موقع پر عشرت فاطمہ نے بھی اس اعتماد پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ نیوز ریڈنگ ان کی زندگی کا حصہ ہے اور اگر ان کے تجربے سے نئی نسل کچھ سیکھ سکتی ہے تو یہ ان کے لیے باعثِ مسرت ہوگا۔

بعد ازاں وفاقی وزیر اطلاعات نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں بتایا تھا کہ عشرت فاطمہ نے پی ٹی وی میں نئی نسل کی تربیت کے لیے فراخ دلی سے آمادگی ظاہر کی، جس پر حکومت ان کی خدمات اور تجربے کی حقیقی قدر کو یقینی بنائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

براڈکاسٹنگ پاکستان پی ٹی وی تلفظ دباؤ عشرت فاطمہ عطاتارڑ قدرتی آفات مینٹور نیوز نیوز کاسٹر ہنگامی حالات وزیر اطلاعات

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: براڈکاسٹنگ پاکستان پی ٹی وی تلفظ عشرت فاطمہ عطاتارڑ قدرتی ا فات مینٹور نیوز نیوز کاسٹر ہنگامی حالات وزیر اطلاعات معروف نیوز کاسٹر عشرت فاطمہ وفاقی وزیر اطلاعات ریڈیو پاکستان عشرت فاطمہ نے مزید پڑھیں انہوں نے تھا کہ کے لیے

پڑھیں:

رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وزیراعظم پاکستان ہی آزاد کشمیر کا وزیراعظم منتخب کرے۔آزاد کشمیر کے علاقے میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے ایک بار پھر حق  حکمرانی، مالکیت اور حق روزگار کا انتخابی ایجنڈا دہراتے ہوئے کہا کہ اگر کشمیریوں نے انتخابات میں ووٹ دے کر اکثریت دلوائی تو یہ تینوں مسائل حل کردیں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ کشمیر میں گزشتہ چھ ماہ سے ہماری حکومت ہے اور یہاں پر جو کام کیے اُن پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی بات کرنے والوں کو پنجاب کی سڑکیں ہی ٹھیک لگتی ہیں اور کہتے ہیں کہ صوبے سے نکلتے ہی سڑکیں خراب ہیں۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ رائیونڈ کو پنجاب سمجھتے ہیں کیونکہ اندرون صوبے کی حالت بہت بری ہے اور انہیں اس کی کوئی پرواہ بھی نہیں ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ اب یہ چاہتے ہیں کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کا فیصلہ اسلام آباد سے ہو اور رائیونڈ کا ایک شہر اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننے کا خواہش مند ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو