کھلاڑی کو بنانے اور خراب کرنے میں کپتان کا کردار ہوتا ہے: حارث رؤف
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلر حارث رؤف نے کہا ہے کہ کسی بھی کھلاڑی کو بنانے اور خراب کرنے میں کپتان کا کردار ہوتا ہے، کپتان اپنے کھلاڑی سے پرفارمنس نکلوا سکتا ہے، پاکستان کے میچ ہارنے پر قومی کھلاڑی بھی دُکھی ہوتے ہیں۔
خصوصی انٹرویو کے دوران حارث روف کا کہنا تھا کہ آسٹریلین پچز سے خاص محبت نہیں، آسٹریلیا میں کرکٹ کھیلنے کا آغاز کیا جس سے کیریئر میں فائدہ ہوا، آسٹریلین کنڈیشنرز اور کلچر کو سمجھنا میرے کرکٹ کیریئر میں اہم رہا۔
انہوں نے کہا کہ میلبورن سٹارز کے کپتان مارنس اسٹونس نے میرے بگ بیش کیریئر میں اہم کردار ادا کیا۔
حارث روف نے کہا کہ بگ بیش اور پاکستان سپرلیگ کی کنڈیشنرز میں فرق ہوتا ہے، بگ بیش کا معیار بڑی لیگز میں شمار ہوتا ہے، اس میں بڑے کھلاڑی کھیلتے ہیں جبکہ پی ایس ایل بڑی لیگ بن رہی ہے، آکشن کے بعد مزید غیر ملکی بڑے کھلاڑی پاکستان آئیں گے۔
انہوں نے کہا کہ کھلاڑی پر تنقید اور کھلاڑی سے بدتمیزی میں فرق ہوتا ہے، ہمارے کچھ لوگ لائن کراس کر لیتے ہیں۔
حارث روف نے کہا کہ میں نے جب بھی پاکستان کیلئے کھیلا ہے ہمیشہ سو فیصد کوشش کی ہے، میرا کردار ہمیشہ وکٹیں لینا ہوتا ہے، رنز روکنا نہیں، سب سے مشکل کردار آخری اوورز میں باؤلنگ کرنا ہوتا ہے جو مجھے رول دیا جاتا ہے، ڈیتھ اوورز میں باؤلنگ کروانا آسان نہیں ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ بیگ بیش میں مجھے کہا گیا کہ دفاعی انداز میں باؤلنگ کرنے کی ضرورت نہیں، مجھے میلبورن سٹارز کی مینجمنٹ نے کہا کہ دنیا کے بیٹرز آپ سے ڈرتے ہیں۔
فاسٹ باؤلر نے کہا کہ مجھے بگ بیش میں صرف وکٹیں لینے کا کردار دیا گیا، مجھے کہا رنز کی پرواہ نہیں کرنی، میں بھی رنز روکنے والی آسان باؤلنگ کروا سکتا ہوں لیکن میرا رول لوگوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔
حارث روف کا کہنا تھا کہ ایشیا کپ کے بعد تسلسل کے ساتھ پرفارمنس دے رہا ہوں، میرے کیریئر کا مشکل وقت نہیں، حال ہی میں پرفارمنس دی ہے، پرفارمنس دوں یا نہ دوں لیکن پھر بھی مجھ پر تنقید کی جا رہی ہے، کسی بھی کھلاڑی کو بنانے اور خراب کرنے میں آپ کے کپتان کا کردار ہوتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا کہ کا کردار حارث روف ہوتا ہے
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔