گروک کا نیا اے آئی فیچر متعارف، اب تحریر کے بغیر فوری جوابات ممکن
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مصنوعی ذہانت اب محض ایک تصور نہیں رہی بلکہ تیزی سے روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بنتی جا رہی ہے، اور ایکس اے آئی کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا گروک 4 کا نیا ویڈیو موڈ اسی ارتقائی سفر کی ایک نمایاں مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ جدید فیچر موبائل کیمرے کے ذریعے اردگرد کے ماحول کا مشاہدہ کر کے صارف کو فوری اور جامع معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
گروک 4 کے اس ویڈیو موڈ کی سب سے منفرد خصوصیت یہ ہے کہ یہ مکمل طور پر وائس بیسڈ ہے، صارف کو نہ اسکرین دیکھنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی تحریر کو پڑھنا پڑتا ہے، بلکہ صرف سوال کرنے پر گروک آواز کی صورت میں بروقت جواب دیتا ہے۔ یہی پہلو اسے دیگر مصنوعی ذہانت پر مبنی فیچرز سے ممتاز بناتا ہے۔
ایکس کے مالک ایلون مسک کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر شیئر کی گئی ایک مختصر ویڈیو نے اس فیچر کی عملی افادیت کو واضح کر دیا ہے۔ ویڈیو میں گروک کو پانی کے قریب گھاس میں چھپے ایک گراؤنڈہاگ کو فوراً شناخت کرتے ہوئے دکھایا گیا، جس نے اس ٹیکنالوجی کی طاقت اور درستگی کو نمایاں کیا۔ اس ویڈیو کو اب تک 43 ملین سے زائد افراد دیکھ چکے ہیں، جو اس فیچر میں عوامی دلچسپی کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق گروک کا ویڈیو موڈ بالخصوص نابینا اور کمزور نظر رکھنے والے افراد کے لیے ایک انقلابی سہولت ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مصنوعی ذہانت کو انسانی آنکھ کے متبادل کے طور پر استعمال کرتے ہوئے سامنے موجود مناظر، اشیاء اور رکاوٹوں کی شناخت کرتی ہے اور انہیں آواز میں بیان کرتی ہے، جس سے صارف اپنے اردگرد کے ماحول کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہے۔
نابینا افراد کو روزمرہ زندگی میں راستہ تلاش کرنے، اشیاء کی پہچان اور ماحول سے باخبر رہنے میں اکثر مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ گروک کا ویڈیو موڈ کیمرے کے ذریعے دروازوں، فرنیچر، راستے میں موجود رکاوٹوں یا سامنے رکھی اشیاء کی نشاندہی کر کے فوری طور پر آگاہ کرتا ہے، جس سے ان کے لیے نقل و حرکت نسبتاً آسان ہو جاتی ہے۔
ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلسل دوسروں پر انحصار نابینا افراد کے لیے ذہنی دباؤ کا سبب بن سکتا ہے۔ ایسے میں گروک کا یہ جدید فیچر ان کے اعتماد میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ ریئل ٹائم پروسیسنگ اس نظام کی سب سے بڑی طاقت سمجھی جا رہی ہے، جس کے ذریعے معلومات میں تاخیر کے بغیر فوری رہنمائی ممکن ہو پاتی ہے۔
عوامی مقامات جیسے بازاروں، پارکوں اور دفاتر میں بھی یہ سہولت نابینا افراد کو ماحول کی وضاحت فراہم کر کے انہیں زیادہ خودمختار اور پُراعتماد بناتی ہے۔ ابتدائی آزمائشی مراحل میں اشیاء کی شناخت کی درستگی 85 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے، جسے ماہرین ایک قابلِ اعتماد پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔
گروک کا ویڈیو موڈ صرف خصوصی افراد تک محدود نہیں بلکہ وائلڈ لائف اور تحقیقی شعبوں میں جانوروں، پرندوں اور پودوں کی شناخت کے لیے بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی طرح تعلیمی میدان میں یہ طلبہ اور اساتذہ کو عملی مشاہدات اور تجربات کے دوران فوری وضاحت فراہم کر کے سیکھنے کے عمل کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔
سیاحت اور سفر کے شعبے میں یہ فیچر تاریخی مقامات اور قدرتی مناظر سے متعلق معلومات فراہم کر کے ایک ذاتی ٹور گائیڈ جیسا تجربہ دینے کی صلاحیت رکھتا ہے، جبکہ صحافیوں اور کانٹینٹ کریئیٹرز کے لیے مناظر کی فوری اور درست تشریح میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق گھریلو استعمال میں بھی یہ ٹیکنالوجی اشیاء کی شناخت، آلات کے استعمال اور روزمرہ مسائل کو سمجھنے میں ایک قابلِ قدر مددگار کے طور پر ابھر رہی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ویڈیو موڈ کی شناخت اشیاء کی فراہم کر سکتا ہے گروک کا کے لیے
پڑھیں:
کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
شہر قائد کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹر ہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکے کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور5 افراد زخمی ہو گئے۔
تفصیلات کے مطابق ملیر کینٹ تھانے کے علاقے صفورا چورنگی سندھ گرین ہوٹل واٹرہائیڈرنٹ کے قریب واقع ٹائر پنکچر اورگیس ویلڈنگ کی مشترکہ دکان میں دھماکےمیں 6 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پرجناح اسپتال منتقل کیا گیا۔
اسپتال منتقلی کے بعد جھلس کر زخمی ہونے والا ایک شخص دوران علاج دم توڑ گیا، جس کی شناخت 35 سالہ وقاص کے نام سے ہوئی۔
حادثے میں زخمی ہونے والے دیگر افراد میں 10 سالہ سکندر، 40 سالہ اویس اور 30 سالہ عبدالحنان اورعابد شامل ہیں جبکہ ایک زخمی کی شناخت تاحال نہیں ہوسکی۔
ایس ایچ او ملیر کینٹ آغا عبدالرشید کے مطابق دھماکے میں جاں بحق ہونے والا وقاص پنکچرکی دکان کا مالک تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنکچر کی دکان سے متصل گاڑیوں کے سینسر گیس ویلڈنگ کے ذریعے مرمت کاکام بھی ہوتا تھا جہاں ایک چھوٹا سلنڈر موجود تھا جوروز داردھماکے سے پھٹ گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور 5 افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طورپراسپتال منتقل کردیا گیا۔
عینی شاہدین کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ دکان مکمل طور پرتباہ ہوگئی۔