اہلِ پنجاب کے لیے خوشخبری ہے کہ صوبائی حکومت نے انقلابی منصوبہ ’’اپنی چھت، اپنا گھر‘‘ مزید وسیع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت اب جوائنٹ فیملیز کو بھی گھروں کی توسیع کے لیے بلاسود اور آسان اقساط پر قرض فراہم کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے سماجی ہم آہنگی اور مشترکہ خاندانی نظام کے فروغ کے لیے ’’سانجھے چُلھے، سانجھے ویہڑے اور اپنی چھت بھی سانجھی‘‘ کے تصور پر مبنی خصوصی پیکیج کی منظوری دی ہے۔ وزیراعلیٰ نے جون 2026 تک ایک لاکھ 60 ہزار گھروں کی تعمیر کا ہدف مقرر کرتے ہوئے ’’اپنی زمین، اپنا گھر‘‘ پروگرام کے تحت 1534 پلاٹس کی الاٹمنٹ کی بھی منظوری دی، جن میں پہلے مرحلے میں جہلم، قصور، فیصل آباد اور لودھراں میں قرعہ اندازی کے ذریعے پلاٹس دیے جائیں گے۔ خصوصی اجلاس میں دی گئی بریفنگ کے مطابق اس منصوبے کے تحت 18 لاکھ سے زائد افراد رجسٹر ہو چکے ہیں، جبکہ 67 ہزار سے زیادہ گھر آباد اور 53 ہزار سے زائد مکانات زیر تعمیر ہیں۔ اب تک 164 ارب روپے سے زائد کے قرضے جاری کیے جا چکے ہیں اور ریکوری ریٹ 99 فیصد رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے دوسری قسط کی جلد ادائیگی، فنڈز میں اضافے اور صارفین کے انتقال کی صورت میں خصوصی پالیسی مرتب کرنے کی بھی ہدایت جاری کی تاکہ مستحق خاندانوں کو مزید سہولت فراہم کی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔