خیبر پختونخوا حکومت نے منرل ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی بل پر وضاحت جاری کردی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
پشاور:
خیبر پختونخوا حکومت نے منرل ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی بل پر وضاحت جاری کردی۔
معاون خصوصی شفقت ایاز نے کہا ہے کہ بانی چیرمین نے مائنز اینڈ منرلز ایکٹ کی مخالفت کی تھی، خیبرپختونخوا کابینہ نے منرل ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی بل کی منظوری دی ہے، کمپنی بل کے تحت صوبے میں مائننگ کے قواعد و ضوابط، لائسنسنگ، رائلٹی، نگرانی اور قانونی فریم ورک متعین کیا گیا ہے۔
شفقت ایاز کا کہنا ہے کہ منرل ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی بل ایک عملی اور ادارہ جاتی اصلاح ہے، بل کے تحت صوبائی حکومت اپنی ایک سرکاری کمپنی قائم کر رہی ہے، اس اقدام کے ذریعے صوبے کی آمدن میں اضافہ، سرمایہ کاری کا فروغ، روزگار کی تخلیق اور وسائل کا عوامی مفاد میں استعمال ممکن ہوگا۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا کابینہ سے منرل ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی بل منظور ہونے پر حکومت شدید تنقید کی زد میں ہے، بل پر تحریک انصاف کی جانب سے سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں اور سوشل میڈیا پر شدید غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔
سوشل میڈیا پیغامات میں کہا گیا ہے کہ بانی چیئرمین کی منظوری کے بغیر مائنز اینڈ منرل کے حوالے سے کوئی قانون سازی قبول نہیں کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: منرل ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی بل
پڑھیں:
وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
اسلام آباد،وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال (mustafa kamal)نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے ملک بھر میں ادویات پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔
اس سلسلے میں ڈرگ لیبلنگ اینڈ پیکنگ رولز 1978 میں ضروری ترامیم کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔منگل کو جاری بیان کے مطابق وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان میں جعلی ادویات کے خاتمے کی جانب ایک بڑا اور تاریخی قدم ہے۔
پہلی بار ملک میں ہر دوا کو ڈیجیٹل طریقے سے ٹریک اور ویریفائی کیا جا سکے گا، جس سے جعلی، غیر معیاری اور نقلی ادویات کی مؤثر نشاندہی اور ان کے خاتمے میں مدد ملے گی۔
انہوں نے کہا کہ نئے نظام کے نفاذ کے بعد عام صارفین باآسانی دوا کی میعادِ استعمال، قیمت اور دیگر اہم معلومات کی مستند تصدیق کر سکیں گے، جس سے عوام کا ادویات کے نظام پر اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔
مصطفیٰ کمال نے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان اس جدید نظام کو ملک بھر میں نافذ کرے گی۔ نئے قواعد کے تحت تمام دوا ساز کمپنیوں اور درآمد کنندگان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ ہر دوا کے پیک پر معیاری ٹو ڈی بارکوڈ اور سیریلائزیشن ڈیٹا درج کریں۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ اہم اقدام پاکستان میں ادویات کی سپلائی چین کو محفوظ، شفاف اور معیاری بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکومت ادویات کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے اور ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ سے جعلی ادویات کے خلاف ایک مضبوط اور مؤثر دیوار قائم ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں خطے کے نمایاں ممالک میں شامل ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے نگرانی کے روایتی طریقوں کی جگہ جدید ڈیجیٹل نظام لے گاجس سے عوام کی صحت، زندگی اور اعتماد کا مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں:میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
وفاقی وزیرِ صحت کے مطابق ڈریپ کی جانب سے صنعت کو سہولت فراہم کرنے کے لیے جلد تکنیکی رہنما اصول جاری کیے جائیں گے، جبکہ متعلقہ فریقین کے ساتھ مشاورتی اجلاس بھی منعقد کیے جا چکے ہیں تاکہ نظام کے مؤثر اور مرحلہ وار نفاذ کو یقینی بنایا جا سکے۔