ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے پر بنگلادیش کو 325 کروڑ ٹکا کا نقصان ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کی صورت میں بنگلادیش کو بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے پر بنگلادیش کو 325 کروڑ ٹکا کا نقصان ہوگا۔
بنگلادیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) کو سالانہ آمدن کی کمائی کے تقریباً 60 فیصد، براڈکاسٹ اور اسپانسر شپ کی مد میں ہونے والی آمدن سے بھی ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ بنگلادیش نے سیکیورٹی خدشات کے باعث بھارت نہ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ورلڈ کپ کے بائیکاٹ کے باعث بنگلادیش کی بھارت کے خلاف مستقبل کی دو طرفہ سیریز بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ دونوں ٹیموں کے درمیان اس سال میں دوطرفہ سیریز بھی شیڈول ہیں۔
واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فروری اور مارچ میں بھارت اور سری لنکا میں شیڈول ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم اپنے تمام میچز سری لنکا میں کھیلے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ورلڈ کپ
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔