بھارتی کوریوگرافر ریمو ڈی سوزا سے بھتہ خوری کیس میں نامزد گینگسٹر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
بالی ووڈ کوریوگرافر اور فلم ڈائریکٹر ریمو ڈی سوزا اور اِن کی اہلیہ لیزیل ڈی سوزا سے 2018 میں بھتہ طلب کرنے کے کیس میں نامزد گینگسٹر روی پجاری کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق روی پجاری سینیگال سے ملک بدری کے بعد گزشتہ پانچ برس سے جیل میں تھا تاہم اس کیس میں اب تک اس کی گرفتاری نہیں ہوئی تھی۔
ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے گزشتہ روز روی پجاری کو گرفتار کر کے کورٹ میں پیش کیا جہاں عدالت نے اسے 27 جنوری تک پولیس تحویل میں بھیج دیا۔
بھارتی میڈیا کا کہنا تھا کہ گینگسٹر روی پجاری نے ملزم ستیندر تیاگی کے کہنے پر ریمو ڈی سوزا، اِن کی اہلیہ اور منیجر کو دھمکیاں دیں۔ اکتوبر 2016ء سے فروری 2018ء کے دوران بار بار فون کر کے فلم کی جلد ریلیز کے لیے دباؤ ڈالا گیا اور معاملہ نمٹانے کے لیے 50 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 2018ء میں فلم ’امر مسٹ ڈائی‘ کے سلسلے میں ریمو ڈی سوزا اور ستیندر تیاگی کے درمیان معاہدہ ہوا تھا جس پر بعد میں حقوق اور رقم کو لے کر تنازع کھڑا ہو گیا تھا۔
ملزم تیاگی کا دعویٰ ہے کہ اس نے فلم میں سرمایہ کاری کی تھی اور اسے 5 کروڑ روپے ادا نہیں کیے گئے جس کے بعد اس نے مبینہ طور پر رقم وصولی کے لیے گینگسٹر روی پجاری کی مدد حاصل کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ریمو ڈی سوزا روی پجاری
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ