’اپنی چھت اپنا گھر‘ پروگرام، وزیراعلیٰ نے گھروں کی توسیع کیلئے قرضوں کے اجراء کی منظوری دیدی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے گھروں کی توسیع کے لیے بلاسود قرضوں کے اجراء کی منظوری دے دی۔
مریم نواز کی زیر صدارت اپنی چھت اپنا گھر پروجیکٹ سے متعلق اجلاس ہوا۔
اجلاس میں گھروں کی توسیع کے لیے قرضوں کے اجراء کی منظوری کے بعد اب جوائنٹ فیملی میں رہنے والے اپنے گھروں کی توسیع کے لیے اپنی چھت اپنا گھر کے تحت بلا سود قرض لے سکیں گے۔
اجلاس میں جون 2026ء تک1 لاکھ 60 ہزار گھر بنا نے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اجلاس میں اپنی زمین اپنا گھر کے1 ہزار 531 پلاٹوں کی الاٹمنٹ کی بھی منظوری دی گئی۔
واضح رہے کہ پنجاب بھر میں اپنی چھت اپنا گھر پروجیکٹ کے تحت 53 ہزار 843 مکان زیر تعمیر ہیں۔
اس کے علاوہ، پنجاب میں اپنی چھت اپنا گھر پروجیکٹ کے تحت 164 ارب 66 کروڑ روپے کے ریکارڈ قرضے دیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اپنی چھت اپنا گھر گھروں کی توسیع
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔