اسلام آباد (خبر نگار) اقتصادی تعاون تنظیم (ای سی او) کے 10واں وزارتی اجلاس کا اعلامیہ کی منظوری کے ساتھ اختتام پذیر ہو گیا۔ اجلاس میں ای سی او رکن ممالک نے آفات سے نمٹنے کے لیے علاقائی تعاون اجتماعی استحکام اور مشترکہ اقدامات کے عزم کا اعادہ کیا دو روزہ اجلاس نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)نے منعقد کیا جس میں ای سی او ممالک کے وزراءاعلی حکام اور علاقائی و بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی آفات سے نمٹنے‘ پاکستان نے پہلی بار ای سی او اجلاس کی میزبانی کی ہے، اختتامی اجلاس میں 21جنوری کو ہونے والی اعلیٰ سطحی ورکنگ گروپ کی میٹنگ کے نتائج کا جائزہ لیتے ہوئے مشترکہ اقدامات کے لیے باہمی معاہدوں کی ضرورت پر زور دیا گیا ۔آذربائیجان کے نائب وزیر برائے ہنگامی حالات عادل عبداللہ یوف اور کرغزستان کے نائب وزیر ارنسٹ ژوسوپوف نے علاقائی ہم آہنگی معلومات کے تبادلے اجتماعی تیاری اور مو ثر پیشگی آگاہی او ر اقدامات کے حوالے سے نظام کی اہمیت پر زور دیا تاجکستان کے ڈپٹی چیئرمین میجر جنرل ایزوزادہ سلیمان عمر نے موسمیاتی خطرات کے بڑھتے ہوئے اثرات پر علاقائی لائحہ عمل کی ضرورت پر اظہار خیال کیا، جبکہ ترکیہ کے ادارہ آفاد کے سربراہ علی حمزہ پہلوان نے مشترکہ تربیتی پروگرامز، فرضی مشقوں اورزلزلہ کے حوالے سے علاقائی معلوماتی سینٹر کے قیام کی اہمیت پر زور دیا۔ ازبک کے نائب وزیر سنجار ذوقروف نے علاقائی معاہدوں کو عملی اقدامات میں ڈھالنے پر زور دیا پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے این ڈی ایم اے کے آفا ت کے خطرات کے تدارک کے ممبرمحمد ادریس محسود نے جدید اور جامع حکمتِ عملی، ٹیکنالوجی پر مبنی استعدادکار اور ابتدائی انتباہی نظام کے فروغ کی اہمیت کے حوالے سے اظہار خیال کیا۔ ترکمانستان کے دفاعی اتاشی امید اوراز محمدوف اور ایران کے سفارتی نمائندے عبدالرحیم مطہری راد نے تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ 

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: اقدامات کے پر زور دیا

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری