کشمیر اور یاسین ملک کی رہائی کا مقدمہ ایک قوم بن کر لڑنا ہو گا: مشعال ملک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) راولپنڈی ریسٹورنٹس، کیٹررز‘ سویٹس اینڈ بیکرز ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام حریت رہنما یاسین ملک کی رہائی، انکی اہلیہ مشعال ملک کیساتھ اظہارِ یکجہتی کےلئے پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ تاجر وں، مختلف تنظیموں اور عوام نے شرکت کی۔ ایسوسی ایشن کے صدر محمد فاروق چوہدری اور ممتاز احمد نے مشعال ملک، انکی ہمشیرہ سبین ملک اور صاحبزادی رضیہ سلطانہ کا پرتپاک استقبال کیا۔ محمد فاروق چوہدری نے کہا یاسین ملک نے اپنی زندگی کشمیر کاز کےلئے جد وجہد میں وقف کر دی۔ تاجر برادری اور پاکستانی عوام مشعال ملک کے ساتھ ہیں۔ صدر کمرشل مارکیٹ راولپنڈی ملک سہیل اعوان نے کہا یاسین ملک کی جد وجہد کو کبھی فراموش نہیں کیا جائےگا۔ صدر راولپنڈی چیمبر عثمان شوکت نے مطالبہ کیا کہ بین الاقوامی ادارے یاسین ملک سمیت تمام کشمیری قیدیوں کی رہائی اور مسئلہ کشمیر کا پرامن حل یقینی بنائیں۔ مشعال ملک نے تاجر برادری کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کشمیر کےلئے ٹھوس قومی پالیسی کی ضرورت ہے، ہمیں عالمی سطح پر ایک قوم بن کر یہ مقدمہ لڑنا ہو گا۔ یاسین ملک نے تہاڑ جیل سے پیغام میں کہا ہے کہ وہ کشمیری عوام ‘پاکستانی قوم کے جذبے کو سلام پیش کرتے ہیں۔ مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ کشمیر کی آزادی تک جد و جہد جاری رہے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: یاسین ملک مشعال ملک ملک کی
پڑھیں:
راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار
— فائل فوٹوراولپنڈی میں 13 سو روپے کے لین دین پر 2 نوجوانوں کے قتل میں ملوث دونوں فریقین کے 7 افراد کو پولیس نے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ کے قتل میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، ملزمان نے زین شاہ کو ٹارچر کر کے سفاکانہ طریقے سے قتل کیا تھا جبکہ مقتول سراج کے قتل میں ملوث ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم نے ساتھیوں کے ہمراہ مقتول سراج پر گولی چلائی تھی، واقعہ 8 مئی کو تھانہ دھمیال کے علاقے پیر مہر علی شاہ ٹاؤن میں پیش آیا تھا۔
راولپنڈی میں کلرسیداں کے علاقے بشندوٹ میں 4 روز قبل دوران ڈکیتی قتل کا ڈراپ سین ہو گیا۔
پولیس کے مطابق مقتول زین شاہ نے مقتول سراج کی دکان سے گھر کے لیے خریداری کی تھی، مقتول سراج نے بقایا رقم 13 سو روپے کا تقاضہ کیا تو جھگڑا ہوا تھا۔
جھگڑے کے دوران گولی چلی جس سے مقتول سراج موقع پر جاں بحق ہو گیا تھا جبکہ مقتول سراج کا بدلہ لینے کے لیے اس کے رشتے داروں نے زین شاہ کو اغواء کر کے قتل کر دیا تھا۔