جموں و کشمیر پولیس نے سرینگر میں ایک اور مؤقر قومی اخبار کے صحافی کو طلب کیا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
مبصرین نے بتایا ہے کہ "سمن" کا یہ تازہ ترین دور کشمیر میں میڈیا کو ڈرانے، دھمکانے اور دبانے کے وسیع تر پیٹرن کا حصہ ہے، یہ پیٹرن اگست 2019ء کے بعد سے اور بھی شدت اختیار کر گیا ہے. اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے ملک کے مؤقر اخبارات انڈین ایکسپریس اور ہندوستان ٹائمز کے کشمیر بیورو میں کام کرنے والے صحافیوں کو طلب کیے جانے کے بعد اب دی ہندو کے صحافی پیرزادہ عاشق کو بھی پولیس اسٹیشن طلب کیا گیا ہے۔ سینیئر صحافیوں، مدیران اور میڈیا اداروں نے اس پولیس کارروائی کی مذمت کی ہے۔ جموں و کشمیر پولیس کی جانب سے ان دنوں کئی قومی اخبارات سے وابستہ وادی کے صحافیوں کو طلب کیے جانے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ سرینگر سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی پیرزادہ عاشق، جو ملک کے مؤقر قومی اخبار دی ہندو کے لئے کام کرتے ہیں، کو 20 جنوری کو جموں و کشمیر کے ایک پولیس افسر کا فون آیا، جس میں انہیں پولیس سے ملنے کے لئے بلایا گیا۔
جب انہوں نے اس ملاقات کے مقصد کے بارے میں پوچھا تو پولیس اہلکار نے مبینہ طور پر کہا کہ انہیں اس کی جانکاری نہیں ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ پیرزادہ عاشق اس دن شہر سے باہر تھے، انہوں نے کہا کہ وہ نہیں آ پائیں گے۔ پولیس اہلکار نے اس کے بعد کہا کہ وہ سری نگر واپس آنے کے بعد آ سکتے ہیں۔ ذرائع نے پیرزادہ عاشق سے اس پیش رفت کے حوالے سے معلومات مانگی ہیں۔ ان کا جواب موصول ہونے پر اس خبر کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں دی وائر نے تبصرے کے لیے چنئی واقع ہندو کے ہیڈکوارٹر سے بھی رابطہ کیا ہے۔ غور طلب ہے کہ اس سے قبل دی وائر نے خبر دی تھی کہ سرینگر میں قومی اخبارات کے لئے کام کرنے والے متعدد صحافیوں کو پولیس نے بغیر کوئی وجہ بتائے پوچھ گچھ کے لئے "سمن" جاری کیا ہے۔
اس پورے واقعہ کے بارے میں جموں و کشمیر کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ اہم قومی اپوزیشن پارٹی کانگریس، سینیئر صحافیوں اور مدیران اور میڈیا اداروں نے پولیس کی کارروائی کی مذمت کی ہے۔ بدھ کو ایک بیان میں ڈیجیٹل نیوز آرگنائزیشنز کی ایک تنظیم ڈی جی پب نے کہا، اس طرح کی مفاد عامہ کی صحافت کو جرم بنا دینا اور صحافیوں کو بغیر کسی مناسب عمل کے بانڈ پر دستخط کرنے کو مجبور کرنا آزادی صحافت پر سنگین حملہ ہے۔ میڈیا اداروں نے جموں و کشمیر پولیس سے اس طرح کی کارروائی کو فوراً روکنے کی اپیل کی ہے۔ مبصرین نے بتایا ہے کہ سمن کا یہ تازہ ترین دور کشمیر میں میڈیا کو ڈرانے، دھمکانے اور دبانے کے وسیع تر پیٹرن کا حصہ ہے، یہ پیٹرن اگست 2019ء کے بعد سے اور بھی شدت اختیار کر گیا ہے، جب نریندر مودی حکومت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کر دیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جموں و کشمیر پولیس پیرزادہ عاشق صحافیوں کو کے بعد کے لئے
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔