ویب ڈیسک: سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر موبائل فونز پر ٹیکس میں کمی کے حوالے سے گردش کرنے والے نوٹیفکیشن کی حقیقت سامنے آ گئی۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے واضح کیا ہے کہ موبائل فون ٹیکس میں کمی سے متعلق زیرِ گردش نوٹیفکیشن جعلی اور گمراہ کن ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر موبائل فون پر ٹیکس میں مبینہ کمی اور درآمد کنندگان و صارفین کے لیے ہدایات سے متعلق جو نوٹیفکیشن گردش کر رہا ہے، اس کا پی ٹی اے سے کوئی تعلق نہیں اور یہ مکمل طور پر جعلی ہے۔

مسلسل تیزی کو بریک لگ گئی، سونے کی قیمتوں میں بڑی کمی

ترجمان پی ٹی اے کے مطابق اتھارٹی نے موبائل فون ٹیکس یا درآمدات کے حوالے سے کسی قسم کی نئی ہدایت جاری نہیں کی۔ عوام الناس سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر مصدقہ اور گمراہ کن معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں اور مستند معلومات کے لیے صرف پی ٹی اے کی سرکاری ویب سائٹ اور تصدیق شدہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے رجوع کریں۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے جعلی نوٹیفکیشن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ موبائل فون ٹیکس میں کمی صرف قانونی امپورٹرز اور رجسٹرڈ وینڈرز کے لیے کی گئی ہے، جبکہ عام صارفین یا انفرادی طور پر موبائل فون منگوانے والوں پر سابقہ ٹیکس ہی لاگو ہوگا۔

بنگلہ دیش ٹی 20ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا یا نہیں ؟

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ٹیکس میں کمی سوشل میڈیا موبائل فون پی ٹی اے

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل