حکومت اور اپوزیشن کے ارکان اسمبلی ملک بھر میں موبائل کمپنیوں کیخلاف پھٹ پڑے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک)قومی اسمبلی اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران حکومت اور اپوزیشن کے ارکان قومی اسمبلی ملک بھر میں موبائل کمپنیوں کے خلاف پھٹ پڑے۔رکن قومی اسمبلی پولین بلوچ نے کہا کہ انٹرنیٹ کی سہولیات بہت ناکافی ہے بلوچستان کے اکثر علاقے انٹرنیٹ سے محروم ہے۔ارکان قومی اسمبلی نے کہا کہ طلبہ و طالبات کو داخلوں اور جابز کے لیے آن لائن اپلائی کرنا مشکل ہو چکا ہے، پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ اب تک 273 میگاہرٹز سپیکٹر م موجود ہے جس سے انٹرنیٹ کی رفتار کی ضرورت پوری نہیں ہوتی، اگلے ماہ 600 میگاہرٹز سپیکٹرم کی بولی ہونے جارہی ہے پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ اسپیکٹرم 273سے 600میگا ہرٹزہونے پر انٹرنیٹ کی رفتار دگنا ہو جائے گی۔اسپیکر سردار ایازصادق نے کہا کہ اسلام آباد سے لاہور اور اسلام آباد سے پشاور موٹروے پر موبائل سروس نہیں چلتی۔ رکن قومی اسمبلی ثنا اللہ مستی خیل نے کہا کہ اسلام آباد سے سی پیک موٹروے پر موبائل سروس نہیں، میانوالی بھکر ایم ایم روڈ پر موبائل سگنل نہیں آتے، پارلیمنٹ کے سامنے پارلیمنٹ لاجز میں انٹر نیٹ درست نہیں آتا تو بلوچستان میں کیا آتا ہوگا۔پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ بلوچستان میں موبائل اور انٹرنیٹ کے لیے 52ارب روپے یو ایس ایف سے دیے گئے۔پولین بلوچ کا کہنا تھا کہ اگر سب سے زیادہ 52ارب روپے بلوچستان کے لیے دیے ہیں تو سب سے زیادہ انٹرنیٹ کا مسئلہ بلوچستان ہی میں کیوں ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قومی اسمبلی اسلام ا باد نے کہا کہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔