جماعت اسلامی نے “بورڈ آف پیس” کو غزہ پر قبضے کا منصوبہ قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
نائب امیر جماعت اسلامی نے وزیر دفاع خواجہ آصف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ قومی اسمبلی میں ان کی شعلہ بیانی نے اتحادیوں کے لئے ’’نورا کشتی‘‘ کا نیا اکھاڑا کھڑا کر دیا ہے، جس سے سنجیدہ قومی معاملات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت کی زرعی پالیسیوں پر بھی سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی قیمت 3500 روپے مقرر کرنا زراعت اور کسانوں کی بربادی کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ بورڈ آف پیس سے متعلق منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ منصوبہ دراصل غزہ پر قبضے کے مترادف ہے۔ نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا کہ اس نام نہاد بورڈ آف پیس کے ذریعے غزہ کے مسئلے کا منصفانہ حل ممکن نہیں۔ لیاقت بلوچ نے وزیر دفاع خواجہ آصف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ قومی اسمبلی میں ان کی شعلہ بیانی نے اتحادیوں کے لئے ’’نورا کشتی‘‘ کا نیا اکھاڑا کھڑا کر دیا ہے، جس سے سنجیدہ قومی معاملات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے حکومت کی زرعی پالیسیوں پر بھی سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ گندم کی قیمت 3500 روپے مقرر کرنا زراعت اور کسانوں کی بربادی کے مترادف ہے۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ اس فیصلے سے کسان معاشی طور پر تباہ ہو رہے ہیں اور حکومت کو فوری طور پر اس پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ گزشتہ روز جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں پاکستان کی شمولیت کے حکومتی فیصلے کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایسے کسی بھی فورم کا حصہ نہیں بننا چاہیے جو فلسطینی عوام کے حقوق کے خلاف ہو۔ واضح رہے کہ پاکستان نے امریکی صدر کے غزہ بورڈ آف پیس منصوبے کی دعوت قبول کرنے کے بعد اس پر دستخط بھی کر دیئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: لیاقت بلوچ نے جماعت اسلامی کہا کہ
پڑھیں:
وفاقی بجٹ کب پیش کیا جائےگا، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے بتا دیا
وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیا جائےگا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وضاحت کی کہ بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہورہی۔
واضح رہے کہ قبل ازیں قومی اسمبلی کا بجٹ اجلاس 5 جون کو طلب کیا گیا تھا، تاہم آج قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس اچانک ملتوی کردیا گیا تھا، جس کے بعد واضح ہوگیا تھا کہ 5 جون کو بجٹ پیش نہیں ہوگا۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی ہونے کے بعد میڈیا پر یہ خبریں سامنے آئی تھیں کہ حکومت بجٹ سے قبل کوئی اہم قانون سازی کرنا چاہتی ہے، تاہم طارق فضل چوہدری نے ایسی خبروں کی تردید کی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews تاریخ کا اعلان طارق فضل چوہدری وفاقی بجٹ وی نیوز