غزہ: اسرائیلی حملے‘ 3 فلسطینی صحافیوں سمیت 8 افراد شہید(روس کا2 ریاستی حل اور غزہ کی بحالی کے لیے مالی شراکت کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
غزہ/ ماسکو (ویب ڈیسک) اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور تازہ حملوں میں مزید 15 فلسطینی شہید ہوگئے۔ عرب میڈیا کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں میں شہید ہونے والوں میں 2 بچے اور 3 صحافی بھی شامل ہیں ۔ صحافی بے گھر فلسطینیوں کے حالات رپورٹ کر رہے تھے کہ اسرائیلی حملے کا شکار ہوگئے۔ غزہ کی حماس کے زیرِ انتظام سول ڈیفنس ایجنسی نے بتایا کہ الزہرہ کے علاقے میں صحافیوں کو نشانہ بنایا گیا، شہیدہونے والے صحافیوں کی شناخت محمد صلاح قشطہ، انس غنیم اور عبد الرؤف شاعت کے نام سے کی گئی ہے، بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک مصری امدادی تنظیم کے لیے کام کر رہے تھے۔ صحافیوں کی بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹوپروٹیکٹ جرنلسٹس کے مطابق غزہ کی 2 سالہ جنگ میں 293 صحافی اور میڈیا ورکرز شہید ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب غزہ میں ٹھنڈ کی شدت سے ایک اور شیرخوار بچہ جاں بحق ہوگیا۔ ادھر غزہ انتظامی کمیٹی کے سربراہ علی شعث نے غزہ کی لائف لائن مصر کے ساتھ رفح کراسنگ اگلے ہفتے سے دونوں جانب سے کْھل جانے کا اعلان کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں کریملن میں روسی صدر ولادی میر پیوٹن اور فلسطینی صدر محمود عباس کے درمیان اہم مذاکرات ہوئے، جس میں دو طرفہ تعلقات، انسانی بحران اور مشرقِ وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال خصوصاً غزہ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی، فلسطینی صدر دو روزہ دورے پر روس پہنچے ہیں۔ صدر پیوٹن نے ملاقات کے آغاز میں فلسطین کے ساتھ روسی تعلقات کو “گہرے اور تاریخی” قرار دیتے ہوئے یاد دلایا کہ سوویت یونین نے 1988 میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا تھا اور ماسکو آج بھی اسی پوزیشن پر قائم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جامع امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل اور فلسطینی ریاست کا مکمل قیام ہے۔ مذاکرات کے دوران امریکی صدر کی تجویز کردہ غزہ امن بورڈ کے بارے میں بھی گفتگو ہوئی، پیوٹن نے کہا کہ روس اس نئی ساخت میں ایک ارب ڈالر فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، جسے غزہ کی بحالی اور فلسطینی عوام کی ضروریات کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ رقم امریکا میں منجمد روسی اثاثوں میں سے لی جائے گی، جو سابق امریکی انتظامیہ کے دور میں روکے گئے تھے۔ پیوٹن کے مطابق یہ معاملہ امریکی نمائندوں اسٹیو وِٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ اسی شام ہونے والی ملاقات میں اٹھایا جائے گا۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے روس کو “پچاس سالہ دوست” قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس نے ہمیشہ فلسطینی عوام کی سیاسی، سفارتی اور مالی مدد کی ہے۔ انہوں نے اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی تباہ کاریوں کا ذکر بھی کیا ۔ محمود عباس نے کہا کہ فلسطینی عوام اپنی زمین نہیں چھوڑیں گے اور کسی بھی بیرونی کوشش کے تحت جبری نقل مکانی قبول نہیں کریں گے، انہوں نے روس کی ثالثی کوششوں اور دو ریاستی حل کی حمایت کو سراہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے غزہ کی کے لیے
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔