ورلڈ اکنامک فورم 2026 کے موقع پر فلسطین میں پائیدار امن کے قیام کے لیے قائم کیے گئے بورڈ آف پیس پر دستخط کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاکستان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دعوت پر شمولیت اختیار کی۔ اس اقدام کا مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی، انسانی بحران کا خاتمہ اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق فلسطین کی منظم، جامع اور پائیدار تعمیرِ نو ہے۔

بورڈ آف پیس کے تحت غزہ کی تعمیرِ نو کے منصوبے میں گھروں، اسپتالوں، اسکولوں، پانی اور بجلی کے نظام کی بحالی، معاشی سرگرمیوں کی بحالی اور فلسطینی عوام کو باعزت اور محفوظ زندگی کی فراہمی شامل ہے۔

اس بین الاقوامی اقدام میں پاکستان کے ساتھ سعودی عرب، ترکی، مصر، اردن، قطر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، بحرین، مراکش، ارجنٹائن، ہنگری اور امریکا شامل ہیں۔ مسلم ممالک کی مؤثر شمولیت اس بات کی ضمانت سمجھی جا رہی ہے کہ فلسطینی حقوق، حقِ خود ارادیت اور ریاستی تشخص کو مرکزی حیثیت حاصل رہے۔

پاکستان نے ایک بار پھر اپنے واضح اور غیر متزلزل مؤقف کا اعادہ کیا کہ 1967 سے پہلے کی سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے، القدس الشریف اس کا دارالحکومت ہو، اور قبضے، اجتماعی سزا اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ہر صورت مخالفت کی جائے۔

پاکستان کا مؤقف اصولی، بین الاقوامی قوانین کے مطابق اور فلسطینی عوام کی امنگوں کا عکاس ہے۔

اس موقع پر ایک اہم اور علامتی لمحہ بھی سامنے آیا جب فلسطینی وزیرِ اعظم محمد مصطفیٰ نے وزیرِ اعظم شہباز شریف کو راستے میں روک کر مصافحہ کیا اور غزہ میں امن، نسل کشی کے خاتمے کی کوششوں اور فلسطینی عوام کے حق میں پاکستان کے مضبوط اور مستقل مؤقف پر شکریہ ادا کیا۔ یہ ملاقات پاکستان کی فلسطین سے دیرینہ حمایت کا عملی اعتراف قرار دی جا رہی ہے۔

بورڈ آف پیس کی دستخطی تقریب کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف اور امریکی صدر کے درمیان خوشگوار تبادلۂ خیال بھی ہوا، جبکہ امریکی صدر نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انگوٹھے کے اشارے سے سراہا۔ مبصرین کے مطابق یہ عالمی سطح پر پاکستان کی قیادت کی ہم آہنگی اور مؤثر سفارت کاری کی پذیرائی کا اظہار ہے۔

واضح رہے کہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا مطلب کسی فوجی مشن یا اسٹیبلائزیشن فورس میں خودکار شمولیت نہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کا مؤقف پہلے سے واضح، مستقل اور پارلیمانی و آئینی دائرہ کار کے مطابق ہے۔

پاکستان نے عالمی سیاست میں بلاک بندی سے اجتناب کرتے ہوئے ایک بار پھر توازن، اصول پسندی اور فعال سفارت کاری پر یقین کا اظہار کیا ہے، اور فلسطین کے معاملے پر خاموش تماشائی بننے کے بجائے بامعنی اور تعمیری کردار ادا کرنے کے عزم کو دہرایا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اردن، قطر، متحدہ عرب امارات امریکا انڈونیشیا، بحرین، مراکش، ارجنٹائن، ہنگری بورڈ آف پیس پاکستان سعودی عرب، ترکی، مصر شہباز شریف ورلڈ اکنامک فورم 2026.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اردن قطر متحدہ عرب امارات امریکا بورڈ ا ف پیس پاکستان سعودی عرب ترکی مصر شہباز شریف ورلڈ اکنامک فورم 2026 بورڈ آف پیس اور فلسطین کے مطابق

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل