پاکستان کا غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا فیصلہ(وزیراعظم نے امریکی صدرٹرمپ کی دعوت قبول کرلی)
اشاعت کی تاریخ: 22nd, January 2026 GMT
بورڈ آف پیس سے انسانی امداد میں نمایاں اضافے اور غزہ کی تعمیر ِ نو کیلئے عملی اقدامات ممکن ہوں گے، فلسطین کے حق خودارادیت، القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے اور آزاد ریاست کی راہ ہموار ہوگی
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد اور فریم ورک کے تحت غزہ امن منصوبے کے نفاذ میں معاونت کی اپنی مسلسل کوششوں کے سلسلے میں بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا،دفتر خارجہ
پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت قبول کر لی ہے۔تفصیلات کے مطابق غزہ میں پائیدار قیام امن کیلیے بورڈ آف پیس میں شمولیت کی دعوت امریکی صدر نے وزیراعظم شہباز شریف کو دی جس کو انہوں نے قبول کرلیا۔پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد اور فریم ورک کے تحت غزہ امن منصوبے کے نفاذ میں معاونت کی اپنی مسلسل کوششوں کے سلسلے میں بورڈ آف پیس میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو امید ہے کہ اس فریم ورک کے قیام سے مستقل جنگ بندی کے نفاذ، فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں نمایاں اضافے اور غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے عملی اقدامات ممکن ہوں گے۔پاکستان نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ یہ کاوشیں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کے حصول کی راہ ہموار کریں گی، بین الاقوامی قانونی حیثیت اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک قابلِ اعتماد اور وقت کے تعین کے ساتھ سیاسی عمل ناگزیر ہے۔پاکستان نے امید ظاہر کی کہ بورڈ آف پیس کے نتیجے میں 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل، القدس الشریف کو دارالحکومت بنانے والی ایک آزاد، خودمختار اور متصل فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہو سکے گی۔پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ بورڈ آف پیس کے رکن کی حیثیت سے تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، تاکہ ان اہداف کا حصول ممکن ہو اور فلسطین کے مظلوم عوام، بالخصوص ہمارے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کی تکالیف کا خاتمہ کیا جا سکے۔واضح رہے کہ اس سے قبل متحدہ عرب امارات اور ترکیہ نے بھی بورڈ آف پیس میں بطور رکن شمولیت کا اعلان کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
امریکا نے جبری مشقت کی روک تھام میں ناکامی پر60 سے زائد تجارتی شراکت داروں پر 10 سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد کردیئے ہیں۔ 24 جولائی سے نئے ٹیرف کا اطلاق ہو رہا ہے اور پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے، جن پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے یہ نیا اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے نظریے کو بحال کرنے کی کوشش ہے۔ فروری 2026 میں امریکی سپریم کورٹ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے مختلف ممالک کی اشیا پر لگائے جانے والے 10 سے 50 فیصد اضافی ٹیرف کے نفاذ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ اس بار ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی ٹریڈ ایکٹ کے سیکشن 301 کو استعمال کرکے 60 سے زائد ممالک پر ٹیرف عائد کیے جا رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق یہ ممالک جبری مشقت سے تیار کردہ اشیا کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اس حوالے سے قوانین کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ارجنٹینا، بنگلا دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، ایل سلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ دیگر 38 ممالک کی درآمدی اشیا پر 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا۔ کچھ امریکی تجارتی شراکت داروں جیسے آسٹریلیا اور برازیل نے اس پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نئے ٹیرف غیرمنصفانہ ہیں اور وہ انہیں ختم کرانے کی کوشش کریں گے جبکہ ناروے کا کہنا تھا کہ بے بنیاد الزامات پر اس کا نفاذ کیا جا رہا ہے۔ نئے ٹیرف میں مختلف درآمدی اشیا جیسے خام تیل، قدرتی گیس، مخصوص غذائی اجناس اور اشیا سمیت کھاد کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی طرح جو اشیا جیسے اسٹیل، گاڑیاں، ایلومنیم اور تانبا وغیرہ پہلے سے سیکشن 232 نیشنل سکیورٹی ٹیرف میں شامل ہیں، ان پر بھی اس کا نفاذ نہیں ہوگا۔