Express News:
2026-07-24@03:40:20 GMT

آدھا وزیر اعلیٰ اور آدھی ریاست

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

جنوری2025کے پہلے ہفتے مقبوضہ کشمیر میں ایک عجب واقعہ رُونما ہُوا ۔ غاصب وقابض بھارتی حکومت نے جموں میں کھلنے والے نئے میڈیکل کالج کالائسنس ہی منسوخ کر دیا ۔ یعنی یہ میڈیکل کالج اب سرے سے ہی غیر فعّال ہو چکا ہے ۔ اِس میڈیکل کالج کا نام ہے: وشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسیلنس۔یہ میڈیکل کالج پچھلے سال ہی جموں میں کھلا تھا ۔ اِس میں ایم بی بی ایس کے طلبا و طالبات کے لیے50سیٹیں رکھی گئی تھیں۔ایک بھی سیٹ کوٹے پر نہیں تھی۔

داخلے کھلے ، امتحانات ہُوئے اور میرٹ بنا تو مقبوضہ کشمیر کے46 مسلمان لڑکے لڑکیاں میرٹ پر پورا اُتر کر مذکورہ میڈیکل کالج میں داخلے کے اہل قرار پائے ۔ یہ منظر بھارتی مقتدر، بنیاد پرست اور متعصب پارٹی ، بی جے پی،اور بھارتی ہندوؤں کو بہت چبھا کہ کشمیری مسلمان بچے بچیاں اکثریت میں کیوں میڈیکل کالج میں داخل ہو گئے؟ جب کہ ہندو طلبا و طالبات میرٹ سے نیچے گر گئے تھے ؛ چنانچہ سب نے رَل مل کر اس قدر شور مچایا کہ بھارت کے مرکزی سرکاری محکمے (MARB) نے مذکورہ میڈیکل کالج ہی بند کر دیا ۔ اور جو46 مسلمان کشمیری لڑکے لڑکیاں میرٹ پر منتخب ہو گئے تھے ، اُن کے بارے میں چارو ناچار یہ فیصلہ کیا گیا کہ انھیں مقبوضہ کشمیر کے دیگر مختلف میڈیکل کالجوں میں کھپا دیا جائے ۔

یاد رہے ، اِس وقت مقبوضہ کشمیر میں 13میڈیکل کالج کام کر رہے ہیں ۔میرٹ پر ایم بی بی ایس کی تعلیم کے لیے46 کشمیری مسلمان طلبا و طالبات کے خلاف بھارتی حکومت کے اِس فیصلے سے ایک بار پھر عیاں ہو گیا ہے کہ بھارتی حکومت کا مقبوضہ کشمیر کے خلاف سیاسی ، مذہبی و معاشی تعصب کن انتہاؤں کو پہنچ چکا ہے ۔

وشنو دیوی میڈیکل کالج بند کیے جانے پر بی جے پی اور اِس کے وابستگان نے خوب جشن منایا ہے کہ یہ اُن کی کشمیری مسلمانوں کے خلاف ایک اور ’’فتح‘‘ ہے۔ حیرت انگیز بات مگر یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے (کٹھ پتلی) وزیر اعلیٰ، عمر عبداللہ ، دہلی سرکارکے اِس ظالمانہ اقدام پر محض منمنا کر رہ گئے ہیں۔ احتجاج میں موصوف بس یہ الفاظ کہنے پر اکتفا کر گئے :’’ ہمارے (کشمیری) بچوں کا قصور کیا تھا؟ اُنھوں نے تو میرٹ پر داخلے لیے تھے ۔

سب ٹیسٹ بھی پاس کر گئے تھے ۔ افسوس اور دکھ کی بات یہ ہے کہ بی جے پی نے وشنو دیوی میڈیکل کالج میں بھی سیاست ، تعصب اور فرقہ واریت داخل کردی ہے ۔ اگر میرا کوئی بیٹا یا بیٹی اِس کالج میں داخلہ لینا بھی چاہتے تو مَیں اُنہیں قطعاً ایسے میڈیکل کالج میں داخلہ نہ لینے دیتا جہاں بی جے پی والے فرقہ وارانہ سیاست داخل کر چکے ہیں ۔‘‘اگر بی جے پی سمیت جملہ بھارتی بنیاد پرست ہندو جماعتیں جموں کے ’’وشنو میڈیکل کالج‘‘ کے مسلمان طلبا کے خلاف ہندو تنظیموں کو نہ بھڑکاتیں تو یہ المیہ بھی جنم نہ لیتا ۔ اگر مقبوضہ کشمیر کے وزیر اعلیٰ، عمر عبداللہ، نریندر مودی کی حکومت کے اِس استحصالی فیصلے کے خلاف ڈٹ جاتے تو شائد مذکورہ میڈیکل کالج بند ہونے سے بچ جاتا، مگر عمر عبداللہ ’’صاحب‘‘ بھارتی بنیاد پرست ہندوؤں کے سامنے ٹھہرنے کا رسک نہ لے سکے ۔

اقتدار و اختیار کا لالچ اور لوبھ بُری بلا ہے ۔ لالچ سے مغلوب و مجبور ہو کر انسان اپنے حق سے بھی پیچھے ہٹ جاتا ہے ۔ یہ مثال مقبوضہ کشمیر کے کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ، عمر عبداللہ، پر پوری طرح منطبق ہوتی ہے ۔ وہ کہنے کو تو منتخب وزیر اعلیٰ ہیں ، مگر اختیارات و اعتبارات کے لحاظ سے محض ایک پتلی تماشہ۔ اقتدار کو مگر وہ چھوڑنے کے لیے مطلقاً تیار نہیں ہیں ۔ اُن کے باپ اور دادا نے بھی یہی راستہ اور وطیرہ اختیار کیا تھا ۔ اقتدار بس ہاتھ میں رہے ، خواہ آدھا ہی کیوں نہ ہو۔ عمر عبداللہ کے دادا ( شیخ عبداللہ ) اور والد ( فاروق عبداللہ) نے بھی مقبوضہ کشمیر پر دہلی کے کنٹرول کو کبھی چیلنج نہیں کیا تھا ۔ اب یہی رویہ عمر عبداللہ کا ہے۔ وہ دہلی کے حکمرانوں اور انڈین اسٹیبلشمنٹ کے سامنے رو بھی رہے ہیں اور وزارتِ اعلیٰ بھی چلا رہے ہیں، میر تقی میر کا یہ شعر گنگناتے ہُوئے : ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی/ چاہتے ہیں سو آپ کریں ہیں ، ہم کو عبث بدنام کیا !!

بھارتی و کشمیری بنیاد پرست ہندو تنظیموں کا مطالبہ تھا کہ ’’وشنو دیوی میڈیکل کالج‘‘ میں بھارتی ہندو طلبا وطالبات کے لیے کئی سیٹیں مختص و محفوظ (Reserve) رکھی جائیں ۔ یہ مطالبہ کرنے والی بھارتی ہندو تنظیموں کا کہنا تھا کہ ’’چونکہ مذکورہ میڈیکل کالج شری ماتا وشنو دیوی مندر کے پجاریوں کے عطیات سے بنایا گیا ہے، اس لیے اِس میں داخلہ بھی ہندو طلباو طالبات کا حق بنتا ہے۔‘‘ اور جب اِس ناجائز اور بے جا مطالبے کو تسلیم نہ کیا گیا تو میڈیکل کالج کے دروازے ہی بند کر دیے گئے ۔

یہ فیصلہ کشمیری مسلمان طلبا کے ساتھ کھلواڑ قرار پایا ہے ۔ مگر مودی کی مسلمان دشمن حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی ۔ مقبوضہ کشمیر کے منتخب وزیر اعلیٰ، عمر عبداللہ، اِس ظلم پر خاموش ہیں ، حالانکہ سری نگر میں اُن کی مقتدر پارٹی کے پاس اکثریت ہے (47میں41سیٹیں عمر عبداللہ کی پارٹی کے پاس ہیں) یہ اکثریت مگر نام نہاد ہی ثابت ہو رہی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر حکومت کے سارے اختیارات مقبوضہ کشمیر کے گورنر ( لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا) کے ہاتھوں میں مرتکز ہیں ۔ اور عمر عبداللہ خود کو ’’آدھا وزیر اعلیٰ‘‘ محسوس کرتے ہیں ۔ بے بس وزیر اعلیٰ۔ اور اِس کا اظہار بھی وہ متعدد بار کر چکے ہیں ۔

چھ سال قبل جب بھارتی وزیر اعظم ، نریندر مودی، نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بیک قلم ختم کر ڈالی تھی اور بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر بارے خصوصی شق (آرٹیکل370) منسوخ کر دیا تھا، تب سے مقبوضہ کشمیر بھی کشمیریوں کے لیے آدھی ریاست بن چکا ہے۔ یوں عمر عبداللہ کے پاس اختیارات بھی نصف ہی رہ گئے ہیں۔ اِس کے باوجود وہ اقتدار کی دیوی سے چپکے ہُوئے ہیں ۔ شائد اِسی لیے عمر عبداللہ کے وزیر اعلیٰ بننے پر دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ ( اروند کجریوال) نے عمر عبداللہ کو مبارکباد دیتے ہُوئے طنزیہ کہا تھا:’’ کشمیر کا وزیر اعلیٰ بننے پر میرے طرف سے آپ کو مبارک۔دہلی کو بھی آدھی ریاست کہا جاتا ہے ، اس لیے مجھے بھی آدھے اختیارات دیے گئے تھے۔ اِسی طرح آرٹیکل 370کی تلوار چلنے کے بعد (مقبوضہ ) کشمیر بھی اب آدھی ریاست بن چکی ہے اور آپ اِس آدھی ریاست کے آدھے وزیر اعلیٰ بنے ہیں ؛ چنانچہ مَیں آپ کو مشورہ دیتا ہُوں کہ جب بھی آپ کو وزارتِ اعلیٰ کے دوران دہلی سرکار سے رکاوٹوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے تو مشاورت کے لیے میرے دروازے کھلے ہیں ۔‘‘

اروند کجریوال 10سال تک دہلی کے منتخب وزیر اعلیٰ رہے ہیں ۔ آخر بی جے پی نے اپنی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے کجریوال کی پارٹی(AAP) کو ہرا دیا  کجریوال کو مسلسل بی جے پی کی مخالفتوں اور سازشوں کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔ اور اب مقبوضہ کشمیر کے ’’آدھے وزیر اعلیٰ‘‘ عمر عبداللہ کو بھی بی جے پی کی سازشوں اور مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ گویا کہا جا سکتا ہے کہ اروند کجریوال اور عمر عبداللہ ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں ۔ کجریوال تو اِس کشتی سے اُتر چکے ہیں، جب کہ عمر عبداللہ ابھی کشتی پر سوار ہیں، مگر مجبورِ محض بن کر ۔اُن کی آدھی وزارتِ اعلیٰ پر سبھی طنز کررہے ہیں ۔

مقبوضہ کشمیر کے ایک ممتاز صحافی کا کہنا ہے کہ ’’ جب سے عمر عبداللہ وزیر اعلیٰ بنے ہیں، ایک بھی کام اور فیصلہ اپنی مرضی سے نہیں کر سکے ہیں ۔ اور نہ ہی مودی کے استحصالی فیصلے (آرٹیکل370کے خاتمے) کو ریورس کروا سکے ہیں ۔ عمر عبداللہ اور اُن کی وزیر تعلیم (سکینہ اِتّو) نے کشمیری لیفٹیننٹ گورنر کے چند فیصلے ریورس کرنے کی کوشش تو کی، مگر کامیاب نہ ہو سکے ۔‘‘ عمر عبداللہ نے وزیر اعلیٰ بنتے ہی اپنی کابینہ کے ساتھ نئی دہلی کا دَورہ بھی کیا تھا، وزیر اعظم مودی اور امیت شاہ ایسے طاقتور وزیروں سے بھی ملے اور سب کی خدمت میں مہنگی ترین کشمیری شالز بھی پیش کیں، مگر آدھے وزیر اعلیٰ کا کوئی آدھ مطالبہ بھی تسلیم نہ کیا گیا ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مذکورہ میڈیکل کالج مقبوضہ کشمیر کے میڈیکل کالج میں عمر عبداللہ ا دھی ریاست بنیاد پرست وزیر اعلی وشنو دیوی بی جے پی کے خلاف گئے تھے دہلی کے کیا تھا رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم

سٹی 42:وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری  وفد کی ملاقات،وزیر اعظم  نے کہا بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے  پاک چین  دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف سے چینی کمپنی فیمسنFAMSUN کے چیف ایگزیکٹو افسر جیک چین Jack Chen کی قیادت میں وفد کی ملاقات ہوئی ۔ وزیراعظم نے وفد کو پاکستان آمد پر خوش آمدید کہا

وزیر اعظم نے کہا پاکستان اور چین مثالی دوست ہیں، جن کے درمیان معاشی شراکت داری اور دوستانہ تعلقات وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔دونوں ممالک کے درمیان بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے یہ دوستی مزید مستحکم ہو گی ۔وزیر اعظم نے چینی کمپنی کا پاکستان میں اجناس کے  سٹوریج کے مراکز کو اسٹیٹ آف آرٹ مراکز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا خیر مقدم کیا۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

 اس منصوبے سے  ملک میں  زراعت کے سیکٹر میں جدید ترین ٹیکنالوجی آئے گی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔ پاکستان کی افرادی قوت کی ہنر مندی اور  تربیت کو ان منصوبوں  کا حصہ بنایا جائے۔

 جیک چین نے پاکستان میں پرتپاک میزبانی پر وزیراعظم اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیافیمسن کے چیف ایگزیکٹو  نے وزیراعظم سے انکے حالیہ دورہء چین کے دوران اپنی  ہونے والی ملاقات کا بھی ذکر کیا، جس کے نتیجے میں وہ پاکستان کا دورہ کررہے ہیں اور غذائی تحفظ کے حوالے سے قابل عمل منصوبے  پر بات چیت کی جارہی ہے۔

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

جناب جیک چین نے کہا کہ فیمسن پاکستان میں غذائی تحفظ کے حوالے سے بہتر سٹوریج مراکز، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور تربیت فراہم کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔بریفنگ میں بتایا کہ فیمسن پاکستان میں گرین سائلوز کے قیام کے حوالےسے ڈیمانسٹریشن سینٹر قائم کرے گی سٹوریج سینٹرز کو جدید گرین سائلوز میں بدلا جائے گا ۔فیمسن اور گرین پاکستان انیشئیٹو کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہو چکے ہیں

ملاقات میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی، معاون خصوصی ہارون اختر  اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔فیمسن زراعت، جانوروں کی خوراک اور فوڈ پراسیسنگ کے حوالے سے چین کی بڑی  کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے۔ 

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

متعلقہ مضامین

  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ