وادی تیراہ میں لینڈ سلائیڈنگ، درجنوں گاڑیاں پھنس گئیں، ریسکیو آپریشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
وادی تیراہ کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث 100 کے قریب گاڑیاں روڈ پر پھنس گئیں۔ حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں خصوصی ایمرجنسی وارڈ قائم کر دیا گیا ہے۔محکمہ صحت خیبرپختونخوا نے مراسلہ جاری کرتے ہوئے انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے اور ڈاکٹرز و پیرامیڈیکل اسٹاف کی چوبیس گھنٹے دستیابی کو یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ زخمیوں کو فوری اور مؤثر طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایمرجنسی، سرجری، آرتھوپیڈکس اور بلڈ بینک کو مکمل طور پر فعال رکھنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جبکہ ادویات، طبی سامان اور سرجیکل آلات کی وافر دستیابی کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔پاک فوج اور مقامی انتظامیہ نے تیراہ سے عارضی انخلاء کرنے والے شہریوں کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ بیس پھنسے ہوئے شہریوں کو ریسکیو کر کے محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔متاثرہ افراد کو خوراک، گرم رہائش اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ ٹرانسپورٹ اور نقل مکانی کا عمل بغیر کسی رکاوٹ کے منظم کیا جا رہا ہے۔سیکرٹری ریلیف خیبرپختونخوا سہیل خان کے مطابق تیراہ میں پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے کا عمل جاری ہے، تقریباً 100 گاڑیاں روڈ پر پھنس چکی ہیں اور 35 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ پشاور، نوشہرہ، صوابی اور مردان کی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئی ہیں، جن کے ساتھ 50 سے زائد اہلکار، 16 ایمبولینس اور بھاری مشینری موجود ہے۔ کمبل، سوئٹرز، بستر اور دیگر ضروری سامان پر مشتمل 10 ٹرک بھی روانہ کیے گئے ہیں۔پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید برفباری کے باعث تیراہ روڈ بند ہونے سے گاڑیاں پھنس گئی ہیں اور ضلعی انتظامیہ ریسکیو آپریشنز کر رہی ہے۔ متاثرہ افراد کو خوراک فراہم کی جا رہی ہے اور محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ ریسکیو 1122 نے پشاور سے 15 اہلکار، ریکوری گاڑیاں، ایمبولینس، طبی سامان اور ریسکیو آلات موقع پر بھیجے ہیں۔ڈی جی پی ڈی ایم اے نے تمام ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت دی ہے اور صوبے بھر کی صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق وادی تیراہ کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کے باعث متعدد گاڑیاں پھنس گئی ہیں، سڑکوں پر پھسلن اور برف جمع ہونے کی وجہ سے آمدورفت متاثر ہے اور پھنسے ہوئے افراد اور گاڑیوں کو نکالنے کا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: افراد کو پھنس گئی ہے اور
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔