میں 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی قانون سازی کو غیر اسلامی سمجھتا ہوں، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میں 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی قانون سازی کو غیر اسلامی سمجھتا ہوں۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بات کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر سے کہا کہ مجھے محسوس ہورہا ہے کہ آپ دباؤ میں ہیں۔
اس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ یہ ایسی کرسی ہے جس سے نہ حکومت خوش ہوتی ہے نہ اپوزیشن۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اس قانون سازی کو اسلامی نظریاتی کونسل بھیجتے تو اچھا ہوتا، میں آپ کے قانون کی خلاف ورزی کروں گا، 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی شادیاں کراؤں گا۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنا شدید احتجاج ایوان میں ریکارڈ کرا رہا ہوں، ہم ایسے قوانین اس ملک میں نہیں چلنے دیں گے، میں آپ کے اس مائنڈ سیٹ کے خلاف ہوں جس نے یہ قانون بنایا، یہ ڈنگ ٹپاؤ کی سیاست مناسب نہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر پیس بورڈ کے نکات میں تبدیلیاں ہوئیں تو آپ کیوں گئے، ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل کی قوت جارحیت کو تقویت دے رہا ہے، ٹرمپ حماس کو دھمکیاں دے رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ امریکا نے افغانستان، عراق اور لیبیا کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ اسرائیل ایران پر حملہ کرنے کے بعد تفتان کی سرحد پر کھڑا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے پہلے صدر نے کہا تھا ہماری اساس ایک نوزائیدہ اسلامی ریاست کا خاتمہ ہوگا، ارادے واضح ہیں، ایسے فورم میں جارہے ہیں جس کا آغاز دھمکیوں سے ہو رہا ہے۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کے پاسپورٹ میں اسرائیل جانے پر پابندی کیوں ہے، ہمیں امن چاہیے لیکن کوئی اصول ہوتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہر طرف معاشی ترقی ہو رہی ہے، صرف پاکستان ڈوب رہا ہے، وزیراعظم نے پارلیمنٹ اور کابینہ کو اعتماد میں نہیں لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: مولانا فضل الرحمان نے کہا نے کہا کہ رہا ہے
پڑھیں:
واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔
لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔
قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔
دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔