سارہ عمیر کی ٹک ٹاک پر ڈانس ویڈیوز وائرل، صارفین شدید برہم
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
بھارتی اداکارہ کرینہ کپور سے مشابہت رکھنے کے سبب شہرت حاصل کرنے والی پاکستانی معروف اداکارہ سارہ عمیر کی ٹک ٹاک پر ڈانس ویڈیوز وائرل ہوگئی، جس کے بعد صارفین انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
2008 میں پی ٹی وی کے ڈرامے ’تھوڑا سا آسمان‘ سے شوبز میں قدم رکھنے والی سارہ عمیر کو بالی ووڈ سے غیر معمولی دلچسپی کے باعث بھی جانا جاتا ہے۔
اس سے قبل انہیں کرینہ کپور کے انداز کی نقل اور ان کے مکالمے دہراتے بھی دیکھا گیا۔ حالیہ دنوں میں وہ مشہور بالی ووڈ گانوں پر ڈانس ریلز بنا کر ٹک ٹاک پر شیئر کر رہی ہیں۔
اگرچہ ٹک ٹاک پر سارہ عمیر کی بڑی تعداد میں مداح موجود ہیں جو انہیں پسند کرتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ تبدیلی پر کئی مداحوں نے ناراضی کا اظہار کیا ہے اور ان کے ڈانس کو نامناسب قرار دیا ہے۔
بیشتر صارفین کے مطابق اداکارہ سادگی میں زیادہ خوبصورت لگتی ہیں۔ طلاق کے بعد اس طرح دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ سارہ عمیر نے ہدایت کار محسن طلعت سے شادی کے بعد شوبز انڈسٹری سے کنارہ کشی کرلی تھی، ان کے 2 بیٹے ہیں۔ تاہم طلاق کے بعد انہوں نے شوبز میں دوبارہ قدم رکھا ہے۔ انہوں نے گزشتہ برس اپنی طلاق کی تصدیق کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔