Express News:
2026-07-24@04:02:36 GMT

78 سال بعد امریکا عالمی ادارہ صحت سے دستبردار ہوگیا

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

امریکا نے 78 سال کے بعد عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) سے باضابطہ طور پر دستبرداری اختیار کر لی ہے۔

تفصیلات کے مطابق یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ ہو گیا ہے جس سے امریکا کا ڈبلیو ایچ او کے ساتھ عملی تعلق بالکل ختم ہو گیا ہے۔

امریکی حکومت نے کہا ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے کورونا وبا کے دوران مناسب طریقے سے کام نہیں کیا۔ ادارے میں سیاسی اثرات اور اصلاحات نہ ہونے کی وجہ سے وہ امریکا کے مفادات کا تحفظ نہیں کر پا رہا ہے۔

دوسری جانب ڈبلیو ایچ او کے مطابق امریکا پر 130–270 ملین ڈالر سے زائد واجبات ابھی بقایا ہیں اور یہ بھی تنازعے کا حصہ ہیں۔

امریکا کا کہنا ہے اب وہ ڈبلیو ایچ او کے بجائے مستقل طور پر دیگر ممالک کے ساتھ دوطرفہ معاہدوں میں کام کرے گا، جیسے امراض پر نگرانی اور ویکسین کے مسائل۔

اس فیصلے کے بعد عالمی صحت کے ماہرین نے اس فیصلہ کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈبلیو ایچ او عالمی سطح پر امراض کی نگرانی اور بروقت معلومات فراہم کرتا ہے۔ امریکا ایسے ڈیٹا تک رسائی کھو سکتا ہے جو مستقبل میں وائرس یا فلو جیسے خطرات سے بچاؤ میں مدد دے سکتا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا ڈبلیو ایچ او میں 1948 میں شمولیت اختیار کرنے والا ایک بانی رکن تھا اور اس کے بڑے مالی معاونین میں سے تھا جو کہ ادارے کا کُل 18٪ تک ادا کرتا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈبلیو ایچ او

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا