سول سروس محض ایک ملازمت نہیں یہ عوامی خدمت کی ایک سرمایہ کاری ہے: چیئرمین ایچ بی ایل
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
چیئرمین ایچ بی ایل سلطان علی الانا نے کہا ہے کہ سول سروس محض ایک ملازمت نہیں بلکہ یہ عوامی خدمت کے مستقبل میں ایک سرمایہ کاری ہے۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن کراچی میں 45ویں مڈ کیرئیر مینجمنٹ کورس (بی ایس-18 افسران) کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے سلطان علی الانا نے پاکستان کے گورننس کے منظر نامے میں سول سروس کے کلیدی کردار پر روشنی ڈالی۔ اپنے خطاب میں انہوں نے میرٹ کو کامیابی کی کلید قرار دیا اور کہا کہ "تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جب میرٹ کمزور ہوتا ہے تو نتائج کمزور ہوتے ہیں، جب آپ میرٹ کو نظر انداز کرتے ہیں تو سسٹم میں نااہلی (incompetence) کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے، جو مزید نااہلی کو جنم دیتی ہے۔" انہوں نے سنگاپور کے لی کوان یئو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مضبوط سیاسی قیادت کو ایک غیر جانبدار، ایماندار اور میرٹ پر بھرتی ہونے والی سول سروس کی ضرورت ہوتی ہے۔ چیئرمین ایچ بی ایل نے افسران سے یہ بھی کہا کہ وہ ریاست کی مشینری اور عام شہریوں کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتے ہیں، آپ کا کام اختیارات کو احتساب میں بدلنا ہے، سول سروس کا کام صرف انتظامیہ چلانا نہیں بلکہ یہ عوامی اعتماد، وسائل اور قومی وقار کی نگہبانی (Stewardship) ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت معاشی اور سکیورٹی کے پیچیدہ چیلنجز سے گزر رہا ہے اور ٹیکنالوجی معاشرے کو تیزی سے تبدیل کر رہی ہے۔ مزید براں سلطان علی الانا نے افسران کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے محکموں میں واپس جا کر عوام کی بات زیادہ سنیں، مشاورت کریں اور معاشرے کے پسے ہوئے طبقات، غریبوں اور نوجوانوں پر خصوصی توجہ دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔