کیا پنجاب کے تعلیمی اداروں میں طلباء کیلئے حاضری کی شرط ختم کردی؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان (ایچ ای سی) کے سوشل میڈیا پر وائرل ایک نوٹیفکیشن نے پنجاب کے طلباء کو الجھن میں ڈال دیا۔
سوشل میڈیا پر وائرل اس نوٹیفکیشن میں دعویٰ کیا گیا کہ پنجاب کے سرکاری اور نجی کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دینے کے لیے حاضری کی شرط ختم کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پر وائرل نوٹیفکیشن کا دعویٰ
نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ تعلیمی ادارے طلباء کو حاضری میں کمی کی بنیاد پر امتحانات میں بیٹھنے سے نہ روکیں۔
نوٹیفکیشن میں تعلیمی اداروں کو طلباء پر حاضری سے منسلک جرمانے عائد کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ہدایات پر عمل نہ کرنے والے تعلیمی اداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی اور نوٹیفکیشن پر سیکشن افسر بابر خان گوندل کا نام اور دستخط بھی موجود ہیں۔
حقیقت کیا ہے؟
ہائر ایجوکیشن کمیشن آف پاکستان (ایچ ای سی) نے اپنے بیان میں سوشل میڈیا پر وائرل اس نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دے دیا ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا کہ سوشل میڈیا پر جو نوٹیفکیشن وائرل ہے وہ ایجوکیشن کمیشن نے جاری نہیں کیا اس لیے محتاط رہیں اور ایسی غیر تصدیق شدہ معلومات کو آگے شیئر کرنے سے گریز کریں۔
ایچ ای سی نے تمام متعلقہ فریقوں کو مشورہ دیا کہ وہ اعلیٰ تعلیمی پالیسیوں اور ضوابط سے متعلق اپ ڈیٹس کے لیے صرف آفیشل ویب سائٹس اور اس کے تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر انحصار کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا پر وائرل
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔