وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں کون سی نئی اصلاحات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت پنجاب کابینہ کے 32ویں اجلاس میں صوبے کی تاریخ کے کئی اہم اور عوام دوست فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں کسانوں، نوجوانوں، مریضوں، مسافروں، تاجروں اور مزدور طبقے کے لیے بڑے پراجیکٹس اور پالیسی اقدامات کی منظوری دی گئی۔
پنجاب میں تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے اعلان کیا کہ سرکاری زرعی زمین اب اشرافیہ کے لیے نہیں بلکہ غریب کسانوں کے روزگار کے لیے وقف ہوگی۔ مریم نواز نے کہا کہ ’اپنا کھیت، اپنا روزگار پروگرام‘شروع کیا جا رہا ہے۔ 50 ہزار افراد کو کاشت کے لیے سرکاری زمین دی جائے گی۔ صوبے بھر کی زرعی قابلِ کاشت سرکاری اراضی اہل افراد کو دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مزدور اور مزارعے بن کر دوسروں کی زمین پر ہل چلانے والوں کو اب اپنے کھیتوں کا مالک بنایا جا رہا ہے۔
نوجوانوں کے لیے روزگار کے دروازےکابینہ نے مختلف محکموں میں ہزاروں نئی آسامیوں کی منظوری دے دی۔ کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (CCD) 1000 نئی آسامیاں پیدا کی جائیں گی، ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس 216 کانسٹیبل، مری ٹورازم پولیس میں 980 نئی آسامیاں پیدا کی جائیں گی۔ سی سی ڈی، ایکسائز، ٹورازم پولیس، ہوم ڈیپارٹمنٹ اور دیگر اداروں میں بھرتیاں کی جائیں گی، آئی ٹی اینڈ انوویشن ڈیپارٹمنٹ میں نئی آسامیاں متعارف کرائی جائیں گی، ٹی ڈی سی پی میں کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتیاں ہوں گی۔
کابینہ نے دو سال میں 10 لاکھ نوکریاں اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر وزیراعلیٰ اور کابینہ کو خراج تحسین پیش کیا۔
تحصیلوں تک الیکٹرک بس سروسپنجاب میں عوامی ٹرانسپورٹ کا دائرہ مزید بڑھاتے ہوئے اضلاع کے بعد تحصیلوں میں بھی الیکٹرک بسیں چلیں گی۔ جبکہ 1000 نئی گرین بسیں منگوانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ 25 مارچ سے کیش لیس ادائیگی سسٹم نافذ ہوگا۔ ٹی کیش کارڈ اور بینک کارڈ سسٹم کی منظوری دیدی گئی ہے۔ کیش ادائیگی پر زیادہ کرایہ ادا کرنا ہوگا۔
تاجروں کے لیے آسانیاںوزیر اعلیٰ نے تاجر طبقے کے لیے قوانین میں نرمی اور کاروباری ماحول کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کی ہدایت دی۔
صحت، تعلیم اور انتظامی اصلاحاتکابینہ اجلاس میں مزید اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔ جن کے مطابق اسپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر ڈیپارٹمنٹ کے آئی سی ٹی سیل کے ملازمین کی ملازمت جاری رکھنے کی منظوری دی گئی۔ سرکاری میڈیکل یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی سلیکشن پالیسی کی منظوری دی گئی۔ یونیورسٹی آف پنجاب کا پوٹھوہار کیمپس، گوجر خان قائم کرنے کے فیصلے پر دستخط کردئیے گئے۔ اسکول مینجمنٹ کونسل پالیسی میں ترامیم کا فیصلہ کرلیا گیا۔ اور پیرا ویٹرنری فیلڈ اسٹاف کا ٹریول الاؤنس 2000 سے بڑھا کر 4000 روپے کردیا گیا۔
سیاحت، ثقافت اور لائیو اسٹاک کا فروغتمام اضلاع میں ہارس اینڈ کیٹل شو کرانے کی ہدایت کی گئی۔ مری کے علاوہ نئے سیاحتی مقامات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ٹورازم، آرکیالوجی اور میوزیم ڈیپارٹمنٹ میں بھرتیوں پر پابندی میں نرمی کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
امن و امان: کچے کے علاقے میں بڑی پیش رفتکابینہ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب کے کچے کے علاقے سے 141 ڈاکو سرنڈر کر چکے ہیں۔ تھرمل ڈرون اور کیمروں سے سندھ سے لائے گئے مغویوں کی نشاندہی ممکن ہوئی۔ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بازیابی عمل میں آئی۔
دیگر اہم فیصلےموٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم: 16 سے 18 سال کے نوجوانوں کو ڈرائیونگ پرمٹ کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اوقاف ڈیپارٹمنٹ میں ڈائریکٹر ایگریکلچر کی آسامی کی منظوری دی گئی۔ جبکہ ڈی وی آر ایس اور ایم ٹی ایم آئی ایس ملازمین کی سروس میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مری میں برفباری: خواتین افسر کو شاباشوزیر اعلیٰ نے مری میں برفباری کے دوران سڑکیں کلیئر کرانے پر خاتون ایکسین کو شاباش دی جبکہ صوبائی وزیر ملک صہیب احمد اور ٹیم کی خدمات کو سراہا
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ پنجاب میں ہر شخص کو اس کا حق دے رہے ہیں، سہولتیں اب شہر سے تحصیل اور تحصیل سے گاؤں تک پہنچ رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پنجاب کابینہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پنجاب کابینہ وزیراعلی مریم نواز شریف کی منظوری دی گئی مریم نواز شریف فیصلہ کیا گیا کا فیصلہ کیا وزیر اعلی جائیں گی کے لیے
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔